|

وقتِ اشاعت :   September 2 – 2025

 

حاصل مہر کی زندگی ایک محنت، لگن اور خدمتِ خلق کی بہترین مثال ہے۔ ان کا سفر ایک چھوٹے گاؤں کے اسکول سے شروع ہو کر تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے پیشہ ورانہ کامیابیوں تک پہنچا۔

حاصل مہر یکم جنوری 1966 کو ناصر آباد میں محمد حسین کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم 1975 میں گورنمنٹ پرائمری اسکول ناصرآباد سے حاصل کی۔ اپنی محنت اور تعلیم کے شوق کے ساتھ انہوں نے 1985 میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ناصرآباد سے میٹرک مکمل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے آرٹس کے شعبے میں ایف۔اے کی تعلیم 1988 میں تربت ڈگری کالج سے مکمل کی، اور اگلے ہی سال یعنی 1989 میں جامعه بلوچستان سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد حاصل مہر نے تدریسی شعبے کا انتخاب کیا اور اپنی زندگی کو قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردیا۔
انھوں نے بطور
جونیئر ورنیکولر ٹیچر (JVT, B-9)
2 اپریل 1988 کو گورنمنٹ پرائمری اسکول للین، یوسی خیرآباد میں جے وی ٹی کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔
بعد میں
وہ یکم فروری 1996 کو وہ گورنمنٹ مڈل اسکول چربک میں پی۔ٹی۔آئی(فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر (PTI, B-14)
تعینات ہوئے۔ بعد ازاں ان کی خدمات 2 دسمبر 2011 کو گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ہوت آباد میں بھی جاری رہیں، جہاں انہوں نے بچوں کو نہ صرف تعلیم دی بلکہ کھیلوں کے میدان میں بھی ان کی رہنمائی کی۔

کئی برسوں کی محنت اور تجربے کے بعد 29 مئی 2024 کو وہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نودز میں سینئر فزیکل ایجوکیشن ٹیچر(سینئر فزیکل ایجوکیشن ٹیچر (SPET)
کی حیثیت سے تعینات ہوئے۔ یہ ان کے کیریئر کی ایک بڑی کامیابی تھی، جو ان کی لگن، خدمت اور تعلیم سے محبت کا عملی ثبوت تھا۔

حاصل مہر طویل عرصے تک تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات سرانجام دینے کے بعد دو تین سال پہلے جگر کے عارضے میں مبتلا ہوئے جس کی وجہ سے تین دفعہ انکا آپریشن کیا گیا جس سے ان کو خاطر خواہ افاقہ نه ہوا۔ دریں اثنا طبی ماہرین نے انھیں جگر ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا گیا اور بعد میں انکا باقاعدہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا لیکن چونکہ قدرت کو شاید کچھ اور منظور تھا لہذا بعد میں ان کو کینسر لاحق ہونے کا انکشاف ہوا۔بلاخر 20 اگست 2025 کو کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پاگئے۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ تعلیمی شعبے کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ اپنی دیانت، خدمت اور اخلاص کی بدولت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

محمد حاصل کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ محنت، اخلاص اور خدمت کے جذبے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردی۔ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ جدوجہد نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔یاد رہے که حاصل مہر بلوچی زبان کے بہت ہی اچھے مزاحیہ شاعر بھی تھے