|

وقتِ اشاعت :   September 2 – 2025

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں آج صبح سویرے دہشت گردوں نے ایف سی کے مرکز پر حملہ کیا، خود کش دھماکے کے بعد مسلح افراد مرکز کے اندر داخل ہو گئے۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں اب تک ایک ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔ بنوں پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چھ تھی جن میں سے پانچ کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے پہلے عمارت پر خودکُش حملہ کیا اور اُس کے بعد وہ ایف سی کے مرکز میں داخل ہو گئے۔

حملہ آوروں نے مرکز میں داخل ہونے کے بعد اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے پانچ کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم ایک کی تلاش جاری ہے۔

اس آپریشن میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ ریجنل پولیس آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آر پی او سجاد خان اور ضلع پولیس افسر سلیم عباس کلاچی اس آپریشن کو لیڈ کر رہے تھے اور موقع پر موجود ہیں۔

ڈی پی او سلیم کلاچی کا کہنا ہے کہ اس وقت علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے بنوں کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان نعمان خان نے بتایا کہ ان کے پاس سات زخمی لائے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار اور تین عام شہری ہیں۔

زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایس ایچ او دمساز خان شامل ہیں۔ نعمان خان نے بتایا کہ ایس ایچ کی حالت تشویشناک تھی تاہم اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔ پولیس کے مطابق ایس ایچ او دمساز خان پر اس سے پہلے بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا جا چُکا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند طالبان کی تنظیم جبھتہ الانصار المہدی خراسان نامی گروپ نے قبول کی ہے۔

اس حملے کے فوری بعد سکیورٹی خدشات کے باعث ایف سی لائن کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔ فرنٹیئر کانسٹبلری لائن پولیس کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور بنوں میں اس کا مرکز کوہاٹ روڈ پر واقع ہے۔