|

وقتِ اشاعت :   September 3 – 2025

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کل شال میں سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے اختتام پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔

اس بزدلانہ اور خونریز کارروائی کے نتیجے میں بی این پی کے کم از کم سولہ کارکن شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوئے، جو نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ ہم شہدا کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں

اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے بلوچ عوام کو سیاسی جدوجہد اور قومی اجتماعات سے روکنے کے لیے ظلم و جبر اور دہشتگردی جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ حملہ کسی مذہبی یا انتہا پسندانہ سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ براہِ راست بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنے کی ایک منظم ریاستی سازش ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اعلان کرتی ہے کہ اس واقعے کے خلاف تین روزہ سوگ منایا جائے گا۔

اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی اور شہدا کی یاد میں ریفرنسز، شمعیں روشن کئے جائیں گے۔ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم اپنے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ ایسے بزدلانہ حملوں سے نہ تو بلوچ عوام کے حوصلے پست ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حقوق کی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے