|

وقتِ اشاعت :   September 8 – 2025

 

بیکڑ – وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عوامی مسائل کے حل کے لیے بیکڑ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ “عام آدمی اپنے مسائل کا فوری حل چاہتا ہے، اور ہماری حکومت اس کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔”

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور بیڈ گورننس صوبے کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو صورتحال کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ نان ایشوز سے ہٹ کر اصل عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: “بلوچستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ دہشت گردی ایک ناسور ہے جس سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے، حتیٰ کہ ڈیرہ بگٹی کے عام لوگوں نے بھی قومی یکجہتی اور امن کی بحالی کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔”

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست سب سے مقدم ہے، اور معاشرتی مسائل کو ریاست کے خلاف بیانیے کے طور پر پیش کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حکومت کے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں۔ راستے بند کرکے عام آدمی کو مشکلات میں ڈالنا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔”

پرامن احتجاج کو شہریوں کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ “تشدد اور زور زبردستی کا راستہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان میں امن، ترقی اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔