|

وقتِ اشاعت :   September 8 – 2025

نیشنل پارٹی کے مرکزی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ 2 ستمبر جہاں بی این پی کے جلسہ عام کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں کارکنان شہید اور 70 سے زائید زخمی ہوئے اس سفاک دہشتگردی کے خلاف بلوچستان کی آل پارٹیز کی جانب سے کامیاب پہیہ جام و شٹرڈاؤن ہڑتال کے موقع پر حسب روایت فارم 47 کے ذریعے بلوچستان کے عوام پر مسلط نااہل حکومت کی جانب سے بجائے اس دہشتگردی کے واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے انہوں نے ایک دفعہ پھر سے اس کامیاب اور تاریخی ہڑتال پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کرتے ہوئے درجنوں سیاسی کارکنوں اور لیڈرشپ کو زخمی اور گرفتار کرکے مختلف تھانوں اور جیلوں میں بھیج دیا۔

سعد دہوار نے مزید کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو حق انجمن سازی اور پرامن سیاسی احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن افسوس یہاں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے جو اس مسلط شدہ نالائق اور نااہل جعلی حکومت کے بدصورت چہرے کو عیاں کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے ہراسگی کے ہتھکنڈے اور حربوں کے ذریعے نا ماضی میں سیاسی کا کارکنوں کو خوف زدہ کیا جا سکا ہے اور نا اگے کیا جاسکے گا کارکنان کے حوصلے بلند ہے، تاہم یہ خوش آئیند ہے کہ عرصے بعد بلوچستان کی حقیقی سیاسی نمائندہ جماعتیں آج ایک پیج پر ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان نے دہائیوں بعد نہایت کامیاب ہڑتال کی گواہی دی حتی کہ ریلوے اور ایئرپورٹس بھی بند رہے جو کہ حقیقی سیاسی جماعتوں کی یکجہتی کے حوالے سے عوامی تقاضے کا بھی اظہار ہے۔ انہوں نے آخر میں نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علی احمد لانگو، صوبائی جنرل سیکریٹری چنگیز حئی بلوچ، حاجی نیاز بلوچ، میر عبدالخالق بلوچ، محمود رند و دیگر سیاسی کارکنوں کی دوران ہڑتال گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکام بالا سے سیاسی کارکنوں کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔