دریائے ملیر کراچی کی ان قدرتی آبی گزرگاہوں میں شامل ہے جو اس شہر کی بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صدیوں سے یہ ندی یہاں کے باشندوں کی زندگی کا لازمی حصہ رہی ہے۔
برسات کے موسم میں یہ پانی کے ریلے سمندر تک پہنچا کر شہر کو تباہ کن سیلابوں سے بچاتی رہی ہے۔
1883 میں شائع ہونے والی کتاب دی لینڈ آف دی فائیو رورز اینڈ سندھ میں ڈیوڈ راس نے ملیر ندی کی طاقت اور خطرات کو بیان کیا وہ لکھتے ہیں کہ یہ ندی عام دنوں میں خشک رہتی ہے لیکن جیسے ہی کیرتھر کی پہاڑیوں پر بارش ہوتی ہے تو یہ ریلوں کی شکل میں طوفان بن کر بہتی ہے ان کے مطابق یہ ندی 800 مربع میل کے علاقے کا پانی سمیٹ کر گزری کریک میں جا گرتی ہے۔
لانڈھی کے قریب ندی پر بنایا گیا گیرڈر برج تین بار بہہ گیا۔ 1805، 1866 اور 1869 کے سیلاب اس کی گواہی دیتے ہیں کہ ملیر ندی کس قدر طاقتور ہے۔ خاص طور پر 5 اگست 1866 کو جب کراچی میں ایک ہی دن میں 29 انچ بارش ہوئی اس وقت شہر کی آبادی بہت محدود تھی لیکن انفراسٹرکچر پھر بھی ٹک نہ سکا۔
انیسویں صدی کی یہ کہانیاں سندھ حکومت کے لئے ایک سبق ہیں جو ملیر ندی میں شاہراہ بھٹو تعمیر کررہی ہے اور اس پر سفری سہولیات کی فراہمی کے نام پر اربوں روپے اس شاہراہ پر خرچ کر رہی ہے مگر ماہرین کے نزدیک یہ ایک بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے۔
ستمبر 2025 کی بارشوں نے ان خدشات کو حقیقت بنا دیا جب جام گوٹھ کے عقب میں زیر تعمیر شاہراہ کا ایک حصہ چند گھنٹوں کی بارش بہا لے گئی اس سے صاف ظاہر ہوا کہ ندیوں کی قدرتی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا ممکن نہیں۔آج بھی خطرہ وہی ہے جو ڈیڑھ سو سال پہلے تھا ،ندی کی چوڑائی سکڑنے سے پانی کا بہاؤ تیز اور غیر متوقع ہو جائے گا اور کراچی کا بنیادی ڈرینیج سسٹم تباہ ہوجائے گا۔
انیسویں صدی میں جب ایک پل تین بار بہہ گیا تھا تو آج اربوں روپے کی لاگت سے بنی شاہراہ بھٹو محض ایک برسات برداشت نہ کر سکی فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت شہر چھوٹا تھا اور آج یہ کروڑوں کی آبادی کا مرکز ہے۔
ڈیوڈ راس نے لکھا تھا کہ ملیر ندی کو روکنا ممکن نہیں وہ تحریر آج بھی اتنی ہی درست ہے اگر قدرتی آبی راستوں کو بند کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھا گیا تو مستقبل میں کراچی کے کسی بھی بڑے سانحے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی جو اس طرح کے فطرت دشمن منصوبوں کی حمایت میں پیش پیش ہیں انہیں اب شہر کے لئے فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ترقی کا مطلب محض سڑکیں اور کنکریٹ کے ڈھانچے ہیں یا پھر ماحول اور انسانوں کے ساتھ توازن پیدا کرنا؟
تاریخ بار بار ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرت کو چیلنج کرنا ہمیشہ تباہی لاتا ہے شاہراہ بھٹو کا بہہ جانا ایک اشارہ ہے کہ وقت ابھی بھی ہے فیصلہ ساز اگر سنجیدہ ہوں تو کراچی کو ایک بڑے خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔
xs2hafeez@gmail.com
دریائے ملیر تاریخی دستاویزات سے آج کی حقیقت تک – شاہراہ بھٹو کی تعمیر اور ممکنہ خطرات
![]()
وقتِ اشاعت : September 13 – 2025