شہبازشریف حکومت کی جانب سے پہلے 16 مہینوں میں لیے جانے والے قرض کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
موجودہ حکومت کے ابتدائی 16 ماہ کے دوران قرضوں میں13078 ارب رو پے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، وفاقی حکومت کے قرضوں میں یہ اضافہ مارچ 2024 سے لیکر جون 2025کے دوران ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق مارچ 2024 سے جون 2025 کے 16 مہینوں کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 11ہزار796ارب روپے اور بیرونی قرضے میں 1282رب روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد وفاقی حکومت کا قرضہ جون 2025 تک بڑھ کر 77 ہزار 888 ارب روپے ہوگیا جبکہ فروری2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے۔
دستاویز کے مطابق فروری2024 تک مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ42 ہزار 675 ارب روپے تھاجو جون 2025 تک بڑھ کر 54 ہزار 471 ارب روپے ہوا، اسی طرح فروری2024 تک وفاقی حکومت کا بیرونی قرضہ 22 ہزار 134ارب روپے تھا اور جون2025 تک مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ 23 ہزار417 ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق جون 2025 تک پاکستان پر مجموعی قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے ہوچکے اور گزشتہ ایک مالی سال 2024۔25 کے دوران ملکی قرضوں اور واجبات میں 8 ہزار 740 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے جبکہ اس وقت ملک میں سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے مالی مشکلات مزیدبڑھ گئیں ہیں۔
ملک کو مالی مشکلات خاص کر قرضوں سے نجات کیلئے ایک واضح روڈ میپ نیز علاقائی سمیت عالمی سطح پر معاشی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں ،ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کو وسعت دی جائے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو، قرضوں پر انحصار کم ہو ،تجارت کے ذرائع وسیع کئے جائیں ،اہم شعبوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے جس سے آمدن میں اضافہ ہو۔
پاکستان زرعی، معدنیات، سمندری سمیت دیگر وسائل سے مالا مال خطہ ہے ان سے استفادہ کے لیے مستقل اور بہترین معاشی پالیسی کی ضرورت ہے۔