|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2025

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دوحہ کے مرکز میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ ’جائز‘ تھا کیونکہ قطر کے حماس کے ساتھ تعلقات ہیں۔

نیتن یاہو نے منگل، 16 ستمبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’قطر حماس سے رابطے میں ہے، وہ حماس کو پناہ دیتا ہے، اسے مالی مدد اور معاونت فراہم کرتا ہے۔ سطر کے پاس حماس پر دباؤ ڈالنے کی طاقت تھی (جو وہ استعمال کر سکتا تھا) مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ لہٰذا ہم نے جو کیا وہ بالکل جائز تھا۔‘

دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی فوج کا فضائی حملہ قطر پر براہِ راست پہلا حملہ ہے جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے، اسرائیلی فوج کی اس کارروائی پر دنیا بھر سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

پیر کے روز عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے قطر میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں دیگر دُنیا کے مُمالک پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر نظرِ ثانی کریں۔

قطر کے امیر، تمیم بن حمد آلثانی نے بھی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر تنقید کی اور کہا کہ ’اسرائیل عرب دنیا کو اپنے اثر و رسوخ کے تحت لانا چاہتا ہے۔‘

قطری امیر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دوحہ پر اسرائیلی حملے کا مقصد ’غزہ سے متعلق مذاکرات کو بند گلی کی جانب دھکیلنا‘ تھا۔

واضح رہے کہ منگل 9 ستمبر کو اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

تاہم اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے انھیں اس حملے کے بارے میں تقریباً اُسی وقت اطلاع دی جب وہ اس پر عمل کرنے والے تھے اور اسی وجہ سے وہ قطری حکام کو آگاہ نہیں کر سکے۔ تاہم ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ انہیں پورا اعتماد ہے کہ ایسا حملہ دوبارہ نہیں ہوگا۔