|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2025

کوئٹہ : چیف جسٹس جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے عدالت عالیہ بلوچستان میں مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے اوور بلنگ اور گیس لوڈ شیڈنگ کے خلاف سخت نوٹس لیا ہے، جس کے تحت ایس ایس جی سی ایل اور کیسکو کے ذمہ داران کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا۔

پہلی درخواست میں ایڈوکیٹ سید نذیر اغا نے ایس ایس جی سی ایل کی جانب سے 12 لاکھ روپے کے اوور بلنگ پر اعتراض اٹھایا تھا۔ عدالت نے ایس ایس جی سی ایل کو اوور بلنگ روکنے اور تمام کیسز کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا۔ عدالت عالیہ نے گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت صوبے کے عوام کو گیس پر پہلا حق حاصل ہے اور ایس ایس جی سی ایل کا رویہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کو گیس کے مسائل سے متعلق وضاحت دینے کی ہدایت کی، اور اگر جواب نہ ملا تو وزیر اعلیٰ کو عدالت میں طلب کرنے کا عندیہ دیا۔

دوسری درخواست میں کیسکو کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی گئی، جس میں درخواست گزار نے ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کی آڑ میں بجلی کنکشن منقطع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ وکیل نے کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عوام بل باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں لیکن نادہندگان کے بہانے پوری آبادی کو سزا دی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی بجلی کراچی اور دیگر صوبوں کی فیکٹریوں کو فراہم کی جا رہی ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت عالیہ بلوچستان نے کیسکو کی پیشرفت رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری، سی ای او کیسکو اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ کو طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیئرمین واپڈا کو بلایا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر کو ہوگی۔