|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جعفرآباد اور دیگر اضلاع میں نہروں سے تمام غیر قانونی نصب پائپ ہٹانے کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی۔ پارلیمانی سیکرٹری عبد المجید بادینی نے قرارداد ایوان میں پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ضلع جعفرآباد میں نہروں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی پائپ نصب کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں کسانوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کیا جا رہا ہے۔

قرارداد کے متن کے مطابق، پانچ لاکھ افراد پینے کے پانی سے محروم ہو رہے ہیں، اور بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ آبپاشی نے اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ لاکھوں کسانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جعفرآباد اور دیگر متاثرہ اضلاع میں نہروں سے تمام غیر قانونی نصب پائپ فوری طور پر ہٹانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ مزید برآں، عدالت کے فیصلے پر عمل نہ کرنے والے آفسران اور اہلکاران کے خلاف کارروائی کی تجویز بھی دی گئی۔ پانی کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لیے ہر کینال اور ڈسٹری بیوٹری پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کسانوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے واٹر یوزر کمیٹی کو فعال کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔

دریں اثنا، بلوچستان اسمبلی میں “بلوچستان اسٹیلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس اور سیز پاکستانیز پراپرٹی” کے مسودہ قانون 2025 پر بحث کی گئی۔ زرین مگسی نے اس مسودہ قانون کو ایوان میں پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

وزیر زراعت صادق عمرانی نے پٹ فیڈر کے بیرون کنال پر پائپ لگانے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی چوری سے متعلق کارروائی جاری ہے اور اس بات پر زور دیا کہ پانی چوری نہیں ہونے دیا جائے گا۔ صادق عمرانی نے حکومت بلوچستان کی جانب سے نصیرآباد کو سیلاب سے بچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

صادق عمرانی نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اگر وزیراعلیٰ مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دیں تو وہ اس میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران بلوچستان اسمبلی نے جعفرآباد اور دیگر اضلاع میں نہروں سے تمام غیر قانونی نصب پائپ ہٹانے کی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

اس اجلاس میں بلوچستان کے مختلف مسائل پر اہم قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں پانی کی تقسیم کی بہتری، غیر قانونی پائپوں کا خاتمہ، اور سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر زور دیا گیا۔