|

وقتِ اشاعت :   September 26 – 2025

بلوچستان میں قیام امن کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔

سیاسی مسائل، لاپتہ افراد کے مسئلے سمیت مستقل امن کے قیام کیلئے ملک کی بڑی جماعتوں سمیت بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک واضح روڈ میپ پر کام کرنا ہوگا ،قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی طرف جانا ہوگا جس میں تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلاء، صحافی برادری کی شراکت داری کو یقینی بنانا ہوگا۔ سب کی رائے لیکر بلوچستان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کیلئے راستہ نکالا جائے، دہشتگردی، تخریب کاری کے حق میں کوئی نہیں،

بلوچستان کی خوشحالی مستقل امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشتگردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم بلوچستان کا حل سیاسی ہے، سیاسی اتفاق رائے سے ایسے فیصلے لینے پڑیں گے تاکہ عوام کا فائدہ ہو۔

بلاول بھٹو زرداری، ن لیگی قیادت سمیت دیگر سیاسی، مذہبی جماعتوں، وکلاء برادری، سول سوسائٹی، صحافی برادری بھی بلوچستان میں قیام امن اور ترقی وخوشحالی کیلئے اپنی رائے دے چکے ہیں مگر اس کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے پہل کرنی چاہئے تاکہ بلوچستان کے اہم ترین مسائل کا حل نکالا جاسکے۔

بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کا خاتمہ ضروری ہے جس کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، سیاسی مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے امید ہے کہ بلوچستان میں امن اور خوشحالی کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت سنجیدہ کوششیں کریں گی تاکہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں اورعوام خوشحال ہوں۔