|

وقتِ اشاعت :   September 29 – 2025

تربت: بارڈر کی بندش کسی صورت قبول نہیں بلاجواز بارڈر کو بند کرکے مسائل پیدا نہ کئے جائیں۔

بلوچستان خصوصا مکران کے عوام کا نان و نفقہ بارڈر کاروبار سے منسلک ہے، بارڈر کمیٹی کے مطالبات کے ساتھ ہیں ضرورت پڑھی تو بھرپور احتجاج کا بھی فیصلہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے رہنما سنیٹر جان محمد بلیدی اور نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سکریٹری میر حمل بلوچ اور میر بجار بلوچ سے بارڈر کمیٹی کے وفد نے ملا سلیم ، حاجی نیاز احمد شنمبے زئی ، پزیر احمد ، مولانا محمد اکرم کی سربراہی میں ملاقات میں۔

انھوں نے کہاکہ بارڈر کاروبار کو قانونی و آئینی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کھاکہ کسی بھی وجہ کے بغیر بارڈر کو بار بار بند کرکے لوگوں کے روزگار کے ساتھ مزاق کیا جارہا ہے سرحدی کاروبار یہاں پر بسنے والے عوام کا آئینی و قانونی حق ہے دنیا بھر میں سرحدوں پر آباد آبادی کو ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔

انھوں نے کھاکہ اس بارڈر کاروبار کو قانونی و آئینی تحفظ فراہم کرکے کاروبار کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور بلاجواز چیک پوسٹ کو بھی ختم کرکے عوام کے مشکلات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر بارڈر کو نہیں کھولا گیا تو سینٹ میں اس پر بھرپور آواز اٹھائیں گے اور تمام زمہ دار افراد و اداروں سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کئے جائیں گے۔