پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے بعد ملکی معیشت بہتر ہوتی جارہی ہے، موجودہ حکومت کی انتھک محنت کے نتیجہ میں پاکستان میں دنیا کے بڑے ممالک سرمایہ کاری کررہے ہیں جس سے تجارت کو وسعت ملے رہی ہے ،کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری سے مقامی سرمایہ کاروں کا بھی اعتماد بحال ہوا ہے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے کے خطرات ٹل گئے ہیں جس کا اعتراف امریکی جریدے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔
امریکی جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جس کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔
بلوم برگ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں سب سے بڑی کمی دکھائی جبکہ پاکستان کی کارکردگی دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر رہی ہے اور صرف ترکیہ پاکستان سے آگے ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 ماہ (جون 2024 سے ستمبر 2025 تک) میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات میں 2200 پوائنٹس کی نمایاں بہتری آئی، یہ پاکستان کی پائیدار معاشی بہتری کا ثبوت ہے۔
پاکستان کے برعکس جنوبی افریقہ، ایل سلواڈور اور دیگر ممالک میں بہتری بہت کم رہی جب کہ مصر، نائیجیریا اور ارجنٹائن جیسے ممالک میں خطرات مزید بڑھے ہیں۔
یہ بہتری اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے بلومبرگ کی رپورٹ کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا یہ سفر اب رکے گا نہیں۔
پاکستانی معیشت کے حوالے سے بلوم برگ کی حالیہ مثبت رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ میں مضمر ڈیفالٹ امکانات میں 2200 بیسز پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
پاکستان کے سی ڈی ایس کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، یہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستانی معیشت میں عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی درجہ بندی میں ابھرتی معیشتوں میں اس وقت ترکیہ کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے، یہ ہماری معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے اختتام پر ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، بلوم برگ کی یہ رپورٹ ہمارے لیے ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے اور ہماری ترقی کے سفر کی مظہر ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتی کوششوں، پاکستانی اور عالمی کاروباری برادری کے تعاون سے ترقی کا وعدہ پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔
یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ ملکی معیشت مضبوط و مستحکم ہورہی ہے ،سرمایہ کاری کے اضافے سے اب حکومت کو ملک میں انفراسٹرکچر، زراعت، آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں مزید بہتری لانی ہوگی تاکہ سرمایہ کاری مزیدبڑھے ۔
عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے خاص کر مہنگائی، بیروزگاری میں کمی لاکر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ،ساتھ ہی بنیادی سہولیات بھی دی جائیں تاکہ بہتر معیشت سے عوام بھی فائدہ اٹھائیں۔
ملکی معیشت بہتر سمتمیں گامزن، دیوالیہ کے خطرات ٹل گئے، عوام کو ریلیف ترجیح ہونا چاہئے!
![]()
وقتِ اشاعت : October 6 – 2025