|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2025

کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری بیان میں صوبے میں تعلیمی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی ہے وزیر اعلیٰ کے مطابق بلوچستان میں 3200 سے زائد سرکاری سکولوں کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 82 ہزار طلبہ و طالبات دوبارہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں “سو فیصد سکول فعال بنانے” کے لیے اقدامات جاری ہیں اور حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں کوئی بچہ سکول سے باہر نہ رہے۔

 

بلوچستان حکومت نے تعلیمی میدان میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے صوبے کے 3,862 غیر فعال اسکولوں میں سے 3,144 اسکولوں کو دوبارہ فعال کردیا، جس سے 81 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیم کے مواقع میسر آگئے ہیں محکمہ تعلیم بلوچستان کے ذرائع کے مطابق یہ صوبائی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے جس کے تحت 81 فیصد اسکول بحال کیے گئے۔ اس کامیابی میں اساتذہ کی بڑے پیمانے پر تعیناتی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,866 ایس بی کے اساتذہ کو فیز۔1 میں تعینات کیا گیا، جبکہ 837 کنٹریکٹ اساتذہ فیز۔2 اور 86 اساتذہ فیز۔3 کے تحت شامل ہوئے۔

 

مزید برآں 290 اسکول عملے کی از سرِ نو تقسیم کے ذریعے فعال کیے گئے، جبکہ این سی ایچ ڈی، بی ای سی ایس، پاک فوج اور ڈپٹی کمشنرز نے بھی بھرپور تعاون کیا۔اضلاع پشین، خضدار اور آواران کارکردگی کے لحاظ سے نمایاں رہے۔ پشین میں 230 اسکولوں کی بحالی کے ساتھ 10,076 نئے طلباء￿ داخل ہوئے، جبکہ خضدار اور آواران میں بالترتیب 7,394 اور 6,529 نئے اندراجات رپورٹ ہوئے۔

دور دراز علاقوں جیسے ڑوب اور نصیرآباد میں بھی قابلِ ذکر بہتری دیکھی گئی حکام کے مطابق یہ کامیابی بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کا سنگِ میل ہے، جو اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ آئندہ مرحلے میں حکومت اسکولوں کی پائیداری، بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی دستیابی پر توجہ مرکوز کرے گی یہ مہم بلوچستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تعلیمی بحالی کی کوشش قرار دی جا رہی ہے، جو ایک باعلم اور بااختیار صوبے کے وژن کی عملی تعبیر ہے۔