|

وقتِ اشاعت :   October 12 – 2025

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید اور عمران خان افغانستان سے چار سے پانچ ہزار بندے لے کر آئے۔ ان کے مطابق اس کے بعد دو سال تک ان لوگوں کی سہولت کاری کی جاتی رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’قومی اسمبلی میں سوالات ہوئے کہ آپ نے کن لوگوں کو لا کر بسا دیا ہے، یہ تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے سوات میں قتل عام کیا ہے اور انھیں ’سوات کے قصائی‘ کہا جاتا ہے۔‘

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں اس خطے میں ’جو جنگیں ہم نے لڑی ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ ہم ان کے بغیر بھی رہ سکتے تھے۔ ہم ان میں کود پڑے اور آج ان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو باقاعدہ ضابطے میں لانا ہوگا کیونکہ یہاں سے شدت پسند، جرائم پیشہ اور ڈرگ سمگلر بھی آ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غیرقانونی مقیم افغانوں کو اب واپس چلے جانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے مذاکرات سے متعلق تجویز پر کہا کہ ’ایک صوبے کو وفاق کے ساتھ اپنی پالیسی میں مطابقت لانا ہو گی۔‘