چین نے کہا ہے کہ پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بیجنگ کے مفادات اور چین-پاکستان تعاون کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین کی جانب سے حال ہی میں ریئر ارتھ (نایاب ارضیاتی معدنیات) اور متعلقہ اشیا پر عائد کی گئی برآمدی پابندیوں کا پاکستان سے کسی بھی طرح تعلق نہیں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات چینی حکومت کی جانب سے اپنے برآمدی کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قانون و ضوابط کے مطابق اختیار کیے گئے جائز اقدامات ہیں۔
لن جیان نے یہ بات ایک معمول کی پریس بریفنگ میں اُس وقت کہی جب اُن سےمیڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان، چینی آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے، نایاب معدنیات امریکا کو برآمد کر رہا ہے، اور مبینہ طور پر اسی وجہ سے چین نے نایاب معدنیات سے متعلق ٹیکنالوجیز کی برآمد پر سخت ضوابط نافذ کیے۔
ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق ہمیشہ اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک باہمی اعتماد اور باہمی دلچسپی کے اہم معاملات پر قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک میری معلومات ہیں، چین اور پاکستان کی اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان معدنیات کے تعاون کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے، پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بیجنگ کے مفادات یا چین-پاکستان تعاون کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔‘
لن جیان نے مزید بتایا کہ پاکستانی رہنماؤں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو جو معدنی نمونے دکھائے یا پیش کیے تھے، وہ دراصل خام قیمتی پتھروں کے نمونے تھے جو اُن کے عملے نے خریدے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’متعلقہ رپورٹس یا تو حقائق کی غلط تفہیم پر مبنی ہیں، یا افواہوں پر، یا پھر چین اور پاکستان کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش ہیں، اور یہ بالکل بے بنیاد ہیں۔‘
ترجمان نے زور دیا کہ چین کے برآمدی کنٹرول کے یہ اقدامات عالمی امن و علاقائی استحکام کے بہتر تحفظ، اور عدم پھیلاؤ جیسے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے کیے گئے ہیں۔