|

وقتِ اشاعت :   October 16 – 2025

گوادر(ضلع) بلوچستان کے خوش قسمت ترین ضلعوں میں شمار ہوتاہے جسکی شْہرت و چرچا نہ صرف مملکتِ خدائے داد میں زبانِ زدعام ہے، بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی میں بھی بلوچستان کے تمام اضلاع سے دو ہاتھ آگے ہے، کہ آج 21 ویں صدی میں بھی گوادر کے شہری باقی سہولتوں کوتو چھوڑدیں پانی جیسی زندگی کی بنْیادی ضرورت سے محروم ہیں ، اور آئے روزہائے پانی ہائے پانی پْکارتے ہوئے مرد وخواتین سراپااحتجاج ہیں۔ قدرتی طور پر ضلع گوادر میں دو مقامات(سب تحصیل سْنٹسرکے بَل و سماتی اور تحصیل اورماڑہ کے بسول کؤر) کے علاوہ کہیں پر بھی زیرِ زمین میٹھے پانی کا ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ اور اگر کہیں زیرِ زمین پانی ہے ، تو وہ پانی انتہائی نمکین اور کھارہ ہے جوکہ پینے کا قابل نہیں ہے۔ البتہ تحصیل اورماڑہ میں “بسول کؤر” اور سب تحصیل سْنٹسر کے چند ایک مقام میں زیرِ زمین بورنگ یا کنواں کا پانی پینے کے قابل ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ گوادر شہر یا ضلع گوادر میں پانی کا مسئلہ بہْت دیرینہ اور بڑا اہم مسئلہ ہے۔ تحصیل اورماڑہ کے شہری (تحصیل ہیڈکواٹر اور دیگر چند قریبی آبادی) بسول کؤر کی بورنگ سسٹْم سے محکمہ آب رسانی کے ذریعے نسبتاً آسودہ حال ہیں۔ جبکہ 1970 کی دہائی میں (اْسوقت کے حکومت’’نیپ‘‘) کے وزیرِاعلیٰ سردار عطااللہ مینگل و گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے حکم پر سب تحصیل سْنٹسر میں بورنگ کراکے پائپ لائن کے ذریعے 60/62 کلو میٹر دوْر گوادر کی محدود آبادی کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ جوکہ 1994 تک باقاعدگی سے جاری و ساری ررا، جس سے گوادر کے شہریوں کی ضرورتِ آب پوری ہوتی رہی۔ 1980کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے احکامات پر جنوبی آنکاڑہ کؤر پر ایک بند تعمیر کیا گیا تھا جس سے آنکاڑہ کؤر کی بارانی پانی کو جمع کرکے گوادر کے عوام کی تْشنگی کو ختم کرنے اور سْنٹسر پائپ لائن کی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن جب سیزن پر بارش نہ ہوتا ، اور یہ پانی کم ہوجاتا تو کھارہ اور پینے کا قابل نہیں رہتا تھا۔ 1985/88 کے درمیان ایم پی اے گوادر میر عبدالغفور کلمتی نے اپنے ایم پی اے فنڈ سے سْنٹسر میں ایک آدھ بورنگ کا اضافہ کیا ، اور سایئجی بند ڈیم تعمیر کرایا۔ لیکن گوادر کی تشنگی میں حاطر خواہ کمی نہیں آئی ، لیکن پھر بھی دؤرِ حاضر کی طرح لوگ پانی کو نہیں ترسے۔ 1987 میں جیونی کے عوام نے پانی کے طلب میں احتجاج کیا اور حکومت سے اپنے پیاس بجھانے کا مطالبہ کیا۔ تو پانی مانگنے کے *غیر قانونی اور غیر شرعی جْرم کے ارتکاب میں* پولیس نے گولیوں سے تین شہریوں بی بی اِزگْل ، 12،13 سالہ بچی یاسمین اور غلام نبی نامی شخص کو بھون کر شہید کیا۔ مگر 38سال گْزرنے کے باوجود آج تک جیونی میں مسئلہِ آب جوں کا توں ہے اور آئے روز لوگ پانی دو پانی دو کا صدا بلند کرکے مظاہرہ کررہے ہیں۔
حکومت اور حکومتی ادارے اکثر و بیشتر بلوچوں پر طنز کرکے الزام عائد کرتے ہیں کہ بلوچ نواب و سردار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بلوچستان کے کچھ سخت گیر قبائلی علاقوں میں کہیں ایسا ہوتا ہوگا۔ لیکن مکران میں قبائیلیت کو رخصت ہوئے 80/90 سالوں سے زائد ہوچکا ہے۔ جبکہ تحصیل گوادر اور ضلع گوادر میں نواب و سردار کا تصور ہی نہیں ہے۔ تو سرکارِ عالیٰ کو کس نواب یا سردار نے عوام کو پانی کی فراہمی سے روکا تھا یا ہے۔ مملکتِ خدائے داد کے دیگر اضلاع اور شہروں میں شہری چوریاں کرتے، ڈاکہ ڈالتے یا کوئی اور خلافِ قانون عمل کرکے ایف آئی آر ہوتے ہیں ، جیل جاتے ہیں، سزا کاٹتے ہیں۔ بدنصیبی سے ضلع گوادر کے لوگ حکومت سے پانی مانگنے کے جْرم میں گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوجاتے ہیں۔ یا پانی مانگنے کے جْرم میں اْنکے خلاف آیف آئی آر کاٹی جاتی ہے۔ اور یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ 2012 کے پانی بحران کے دوران ایک شہری نے کسی کے دْکان سے پانی چْرا کر اپنے اہلخانہ کی پیاس بجھائی تھی۔ یہ بات زبانِ زَدعام ہوئی تھی اور میڈیا میں رپورٹ بھی ہوا تھا۔
بہرحال 1994 میں وزیرِاعظْم بینظیر بھٹو نے آنکاڑہ کؤر ڈیم (موجودہ آنکاڑہ ڈیم) کا افتتاح کیا۔ جسکے بعد گوادر اور گرد و نواح کے علاقوں میں آباد لوگ آنکاڑہ ڈیم سے پانی کا ضرورت پورا کرتے آئے ہیں۔ آنکاڑہ ڈیم کی تعمیر کے بعد سْنٹسر کے بورنگ و پائپ لائن سسٹْم تباہی و بربادی کے شکار ہوگئے۔ 2012 کی خشک سالی نے آنکاڑہ ڈیم کو خشک کیا تو ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی ،حکومت اور محکمہ آب رسانی نے دوبارہ سْنٹسر بورنگ سسٹْم و پائپ لائن کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے اور کئی ماہ بعد سنْٹسر بورنگ سسٹْم ادارہِ محکمہ آب رسانی کے بقول یومیہ دو لاکھ گیلن پانی دینے کا قابل بن گیا۔ لیکن اْس وقت بہْت دیر ہو چکْی تھی۔ ایک تو یہ کہ گوادر کی آبادی اب ہزاروں کے بجائے لاکھوں میں تبدیل ہوچکا تھا اور دوسری یہ کہ سب تحصیل سْنٹسر اور تحصیل جیونی بھی خشک سالی کے زَد میں آچکے تھے اور اْنکو بھی بورْنگ سسٹْم سے پانی دینا تھا یا پھر دوسرا کوئی ذریعہ بروئے کار لانا تھا۔ 2012 سے 2020 تک جدا جدا ادوار میں گوادر میں پانی کے تین بْہت بڑے بحران آئے، جس پر حکومتِ بلوچستان نے اربوں روپے خرچ کرکے واٹربوزر کے ذریعے مختلف تحاصیل و دیہی علاقوں کو پانی فراہم کیا۔ جس سے حکومت کو اربوں کا نقصان ہوا ، محکمہ آب رسانی کے چند افسران اور اْن کے کنٹریکٹر مہینوں میں کروڑ پتی بن گئے۔ لیکن عوام تا حال تشنگی کے بھنور میں ہے۔ 2013/18 میں ڈاکٹر مالک کی حکومت نے سووڈ ڈیم کو مکمل کیا ، سووڈ ڈیم سے گوادر تک پائپ بچھائے گئے پانی کی فراہی بھی شروع ہو گئی۔ مگر یہ تمام کے باوجود گوادر میں تشنگی و پیاس کا راج ہے۔ بلوچستان کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے لگ بھگ ایک ارب روپے کی لاگت سے کارواٹ کے مقام پر ڈیسالینیشن پلانٹ کی تعمیر و تنصیب مکمل کیا ، اور کہا گیا کہ یہ پلانٹ یومیہ 24 لاکھ گیلن پانی دینے کی سکت رکھتی ہے ، سرْبندن میں ڈیسالینیشن پلانٹ کی تنصیب کی گئی ، علاوہ ازیں اور بھی کچھ کیا گیا۔ لیکن اِن سے گوادر کے عوام کو ایک لیٹر پانی مْیسر نہ ہوسکا۔
آج اکتوبر2025 کو بھی گوادر شہر کے مکین پانی پانی کرکے گلی ،محلوں میںتلاشِ آب میں سرگردان ہیں۔ شہری اور سیاسی پارٹیوں کے راہنماء سراپاِ احتجاج ہیں۔ اس سے قبل مختلف محلوں کے عوام اور خاص طور پر خواتین گزشتہ کئی دنوں سے ملا موسیٰ موڑ، اور دیگر محلوں میں پانی کی طلب میں دھرنا دیئے بیٹھے رہے لیکن نہ کوئی حکومتی نمائندہ اْن سے ملنے و مذاکرات کرنے گیا اور نہ ہی متعلقہ ادارتی ذمہ دار شخص۔ اب سوال یہ بنتا ہے کہ کیا حکومت اپنے عوام کو بنیادی سہولتیں اور ضرورتیں دیئے بغیر پْرامن اور خاشوش رکھنے میں کامیاب ہو سکتاہے ؟۔ کیا روزروز کے احتجاج ، دھرنوں اور روڈ بلاک سے حکومت ملْکی اور غیر ملْکی سرمایہ کاروں کو مطمئن کرکے گوادر لا نے میں کامیاب ہو سکتا ہے ؟۔ کیا 21 ویں صدی میں گوادر کے عوام تمام بنْیادی سہولتوں پانی ، بجلی ، علاج و معالجہ، تعلیم سے محروم سی پیک کو اپنے دْکھوں کا مداوا سمجھیں گے ؟