|

وقتِ اشاعت :   October 18 – 2025

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع دُکی میں کوئلے کی دو کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔

دکُی پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی نے بتایا کہ سنیچر کو پیش آنے والے حادثات میں سے ایک واقعہ دُکی جبکہ دوسرا چمالانگ میں پیش آیا۔

ہلاک ہونے والے چاروں کان کنوں کی شناخت ہوگئی ہے اور ان چاروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔

چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان سید رفیع اللہ نے بتایا کہ دونوں کانوں میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کان کے مالکان اور انتظامیہ نے مائنز انسپیکٹوریٹ کی اجازت کے بغیر اس کو کھولی اور اس میں کام شروع کر دیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ اس کان میں زہریلی گیس موجود تھی جس کی وجہ سے اس میں کام کے لیے جانے والے دونوں کان کن زندگی کی بازی ہار گئے۔

‎چیف انسپیکٹر مائنز کے مطابق مائنز انسپیکٹوریٹ کی اجازت کے بغیر کوئلے کی کان کو کھولنے پر اس کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا جارہا ہے۔

بلوچستان میں جدید صنعتیں کم ہونے کی وجہ سے کان کنی کا شمار بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے۔

بلوچستان میں جن اضلاع میں کوئلہ کی بڑی تعداد میں کوئلہ کی کانیں موجود ہیں ان میں دکی، ہرنائی، کوئٹہ اور کچھی شامل ہیں۔

مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے کے سبب حادثات پیش آتے ہیں تاہم دیگر اضلاع کے مقابلے میں دُکی میں ان حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے