|

وقتِ اشاعت :   October 19 – 2025

بلوچستان پچھلے 30 برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار صوبہ رہا ہے ،،کبھی خشک سالی تو کبھی غیر معمولی بارشوں سے تباہی، مگر اس مسلے کا حل کبھی بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ، 90 کی دہائی میں بلوچستان کے مختلف علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں رہے،

وجہ بنی موسمیاتی تبدیلی، اس کے بعد یہ سلسلہ رکانہیں بلکہ وقت گزرنیکیساتھ صورتحال گھمبیر سے گھمبیر تر ہورہی ہے،1998میں چاغی اور خضدار کی سب تحصیل آرنجی میں توصورتحال نے اتنی شدت اختیار کی کہ سینکڑوں افرادکو ہجرت کرنا پڑی،کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اورلائیواسٹاک کوبھی شدید نقصا ن پہنچا اب یہ حال ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح 1500 سے 3000 ہزار فٹ تک گر چکی ہے،

صوبائی حکومت نے گذشتہ سال کے مالی سال کے بجٹ میں صوبائی حکومت نے گرین بلوچستان اینیشیٹو پروگرام شروع کرنے کیلئے دس ارب روپے مختص کئے تھے ،،تاہم یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے بلوچستان کے دور درازاضلاع خاران، واشک، نوشکی، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، جعفر آباد، نصیر آباد، سبی، کوئٹہ، خضدار، لسبیلہ، قلعہ عبداللہ سمیت دیگر متعدد اضلاع میں معمول سے کم بارشوں سے خشک سالی کا سامنا رہتا ہے ، غیر معمولی بارشوں سے سیلابی صورتحال کا سامنا رہتا ہے ، اس کے علاوہ ان اضلاع میں سردیوں میں موسم غیر معمولی سرد اور گرمیوں میں درجہ حررات میں اضافہ سے ہیٹ ویو کے زیر اثر رہتے ہیں، سبی ، تربت، دالبندین اور نوکندی سمیت کئی اضلاع میں زیادہ سے زدیاہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ رکارڈ ہوتا ہے ،

پاکستان پاورٹی الیکوکیشن فنڈ کے سی ای او نادرگل بڑیچ کے مطابق سب سے زیادہ پانچ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں ان میں پاکستان بھی شامل ہے ،اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسکے اثرات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بلوچستان میں سیلاب،طوفانی بارشوں، تیزی سے بدلتے غیر معمولی موسمی رویے،

اورمجموعی زرعی پیداوار اوراس کیمعیار میں کمی کیعلاوہ صاف پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں واضح ہیںملک کے دیگر شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ بھی موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر ہے ، تقریبا 28 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی والے شہر کوئٹہ کو ایک زمانے میں خوشگوار گرمیوں ، برفیلی سردیوں ، خوبصورت عمارتوں اور خوشحال پھلوں کے باغات کے لئے چھوٹا لندن کہا جاتا ہے ، اب اسے آب و ہوا کی تبدیلیوں کا سامنا ہے،یہاں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی یا بیشی ، پانی کے وسائل میں کمی اور خطرناک ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے ،

ماضی کی نسبت اب یہاں برف باری معمول سے انتہائی کم ہوتی ہے ،کوئٹہ میں اب گرمیاں پہلے سے کہیں زیادہ لمبی ہوتی ہیں ، بارش معمول سے کم ہوتی ہے،اس کے اثرات زراعت پر بھی پررہے ہیں ، خاص طور پر سیب ، چیری اور انار کے باغات متاثر ہونے سے پیدا وار پر اثر پڑا ہے ،پانی کی فراہمی کے ذخائر کم ہورہے ہیں ،زیر زمینی پانی کی سطح بھی تیزی سے گررہی ہے ،شہر یوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے،باغات خشک ہو رہے ہیں،ہی وجہ ہے کہ بہت سے باغات کی جگہ اب تعمیرات ہوئی ہیں،موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب کوئٹہ میں موسم گرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکارڈ کیاجاتا ہے ، یہی نہیں بارشیں نہ ہونے سے طویل خشک موسم کے سبب الرجی، دمے کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیاہے ، یہی نہیں گاڑیوں کے دھویں اور لکڑیاں جلانے کی وجہ سے فضائی آلودگی جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں

جبکہ درختوں کی کٹائی بھی ایک اور اہم مسئلہ ہے،ماہرین کے مطابق کوئٹہ میں واٹر ریچارجنگ پوائنٹس پر رہائشی کالونیوں کی تعمیر اور جنگلات اور درختوں کے بے دریغ کٹائو سے شہریوں کو ناصرف پینے کا پانی کی قلت کا سامنا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل کے مطابق صوبے میں موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے،

ان کے مطابق وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے یہ کہا گیاہے کہ بلوچستان ماحولیاتی لحاظ سے ایک حساس صوبہ ہے، ہمیں مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے آج سے ہی اقدامات کرنے ہوں گے، شجرکاری، پانی کے ذخائر کی حفاظت اور صاف توانائی کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے،

بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روز بروز بڑھ رہے ہیں، اس کے اثرات سے بچنے کے لے صوبے بھر میں’’گرین بلوچستان‘‘ مہم کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری، آلودگی کنٹرول اور ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی میں بلوچستان کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن ہم سب سے زیادہ پاکستان میں متاثر ہوئے ہیں، 2022 کے تباہ کن سیلاب کے متاثرین سرکاری معاوضہ کے منتظر ہیں ،

2022کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے 400/500ارب درکار ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان میں پہلے سے لگے درختوں کا تحفظ نہ کیاگیا اور مزید درخت نہ لگائے گئے تو آنے والے برسوں میں صوبے کے متعدد علاقوں سے شہریوں کو پانی اور مویشوں کیلئے چرہ گاہ کی تلاش میں ہجرت کرنا پڑ سکتی ہے،

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لئے موثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کا بے دریغ استعمال دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے ساتھ ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔