|

وقتِ اشاعت :   October 19 – 2025

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب پاکستان میں وہ افغان رہے گا جس کے پاس ویزا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شریک ہوئے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شریک نہیں ہوئے، ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی۔اجلاس میں افغان مہاجرین سے متعلق معاملات زیرغورآئے اور افغانستان کی جانب سے دراندازی، اشتعال انگیزی سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کوافغان مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی شروع کی گئی، 16اکتوبر2025 تک 14لاکھ77ہزار592 افغانیوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے۔
افغان مہاجرین کوکسی بھی قسم کی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی جلد یقینی بنائی جائے گی، افغانستان کی جانب ایگزٹ پوائنٹس کوبڑھایا جارہاہے تاکہ افغانیوں کی وطن واپسی سہل اور تیزی سے ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ پاکستان میں صرف انہی افغان باشندوں کواجازت ہوگی جن کے پاس ویزاہوگا۔
بریفنگ میں کہا گیاکہ پاکستان میں غیرقانونی افغان باشندوں کو پناہ دینا اورانہیں گیسٹ ہاؤسزمیں قیام کی اجازت قانوناً جرم ہے۔
وزیرِاعظم نے غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے دوران باعزت طریقے سے پیش آنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام ہم سے سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی؟ بہرحال پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کررہا ہے ،لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو افغانستان میں جنگ کے دوران پناہ دی گئی، مہمان نوازی کی گئی اب پاکستان افغان مہاجرین کا بوجھ مزید برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ،لہذاتمام افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ملک پر معاشی بوجھ کم ہونے کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں سمیت دیگر غیر قانونی عمل کو روکا جاسکے کیونکہ پاکستان نے معاشرتی ،سماجی حوالے سے ناقابل لاتلافی نقصان اٹھایا ہے۔