بلوچستان میں سرکاری اور غیر سرکاری دہشت گرد موجود ہیں، مولانا ہدایت
بلوچستان اسمبلی اجلاس :دہشت گردی کے مسئلے پر ایک سنجیدہ اور وسیع تر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا سب سے بڑا نقصان بلوچ عوام کو ہو رہا ہے۔ رکن اسمبلی خیر جان بلوچ نے کہا کہ بندوق کے زور پر ہمیں اصولی سیاسی سوچ سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ایک بڑی بھول ہے۔ ان کے مطابق آواران جیسے علاقے 21ویں صدی میں بھی بجلی سے محروم ہیں، جبکہ بجلی کا منصوبہ صرف 30 کلومیٹر دور رکا ہوا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں سرکاری اور غیر سرکاری دہشت گرد موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے حلقے میں دشت جاتے ہوئے مسلح افراد فی گاڑی 15 ہزار روپے لے رہے تھے، اور جب ایک سیکورٹی آفیسر سے رابطہ کیا تو اس نے جواب دیا کہ “یہ ہمارے لوگ ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، لیکن عوام کو نہ تحفظ ملتا ہے اور نہ انصاف۔ “میں کس سے سوال کروں؟ ولید کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟” مولانا نے کہا کہ ہم سب صرف مذمت کرتے ہیں، آئی جی پولیس بھی یہی کرتا ہے، حالانکہ اس کا کام تحفظ دینا ہے۔