|

وقتِ اشاعت :   October 21 – 2025

کبھی کبھار تاریخ خود ایک نوجوان کو چن لیتی ہے کہ وہ قیادت کے نقش قدم چھوڑے تربت کے وژنری نوجوان مئیر بلخ شیر قاضی اس کی روشن مثال ہیں۔
بلخ شیر قاضی رئیس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی جڑیں بلوچ تہذیب و روایات میں پیوست ہیں۔ان کی پرورش ایک باشعور سیاسی ماحول میں ہوئی جہاں قیادت،علم اور عوامی خدمت کا درس بنیادی اقدار رہے۔انکے والد قاضی غلام رسول بلوچ انکے رول ماڈل و لیگسی ہیں۔ان کی رہنمائی اور شفقت میں ان کی اچھی پرورش ہوئی۔جدید تعلیم اور روایتی اقدار کے حسین امتزاج نے انہیں ایک متوازن،سلجھے ہوئے،نفیس اور بیدار مغز قیادت میں ڈھالا اور وہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک کاوشوں کی وجہ سے سیلف میڈ مین بن گیا ہے۔ پولیٹیکل سائنس میں تربت یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے والے نوجوان مئیر بلخ شیر قاضی کا مئیر بننا محض ایک سیاسی کامیابی نہیں تھی بلکہ تربت کے باشعور عوام کا اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کا اظہار ہے۔ان کی قیادت میں عوام نے نہ صرف ایک مئیر نہیں بلکہ ایک رہنما،ترجمان اور اصلاحات کا داعی پایا۔
ان کی ولولہ انگیز قیادت میں تربت میں صحت و صفائی،
پر روزانہ ترجیحی بنیادوں پر زوروشور سے کام ہورہا ہے۔
میونسپلٹی کا چاق و چوبند عملہ وسائل کی کمی کے باوجود ہر علاقے و گلی کوچے میں بالخصوص تربت سٹی میں
صحت و صفائی و حفظان صحت پر کام کر رہا ہے۔
سیوریج کی صفائی،پانی کی فراہمی،سٹی ایریا میں انجمن تاجران کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بہت اچھا ہے اور انکے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
مئیر عوامی شکایات کافوری ازالہ کرتے ہیں اور شہریوں سے براہ راست رابطہ کرتے ہوئے ان کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل کرتے ہیں۔
وژنری مئیر تربت بلخ شیر قاضی نے متعدد بار عالمی فورمز میں نہ صرف تربت، بلوچستان پاکستان بلکہ ایشیا کی نمائندگی کی ہے۔
وہ انٹرنیشنل مئیر ایسوسی ایشن جوکہ یو این کے زیر اہتمام تھا جکارتہ انڈونیشیا میں اس عالمی فورم میں شرکت کرکے ملک و صوبے کی نمائندگی کی۔
پاکستان کے واحد مئیر ہیں جنہوں نے یو این انٹرنیشنل مئیرز اکیڈمی سے 9 مہینے تک آن لائن کورس کی اور وہاں سے سرٹیفیکیٹ 26 نومبر 2024 کو حاصل کی جوکہ علاقے کے لئے بڑی اعزاز ہے۔
انہوں نے ڈی جی ساؤتھ کوآپریشن جیسے عالمی فورم میں بطور پینلسٹ بحیثیت لوکل گورنمنٹ نمائندہ شرکت کی اور شرکاء کے تسلی بخش جواب بین الاقوامی تناظر میں دیئے۔اس فورم میں ٹائیکا،جائیکا،یوایس ایڈ،
جی آئی زیڈ،چائینز کوآپریشن جیسے اداروں نے بھی شرکت کی تھی۔
انہوں نے ورلڈ فورم آف مئیرز جینیوا میں ایشیا پیسیفک کی نمائندگی کی۔
بلخ شیر قاضی پاکستان کے واحد مئیر ہیں جنہوں نے یو این اکیڈمی آف مئیرز کے ایلومنائی ہیں اور وہاں سے گریجویٹ ہیں۔
سب سے بڑی اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے اسٹارس برگ جوکہ کیپٹل آف یورپ کہلاتا ہے اس کے 48 کانگریس میں بطور پینلسٹ و گیسٹ اسپیکر شرکت کی۔وہ ایشیا مئیرز فورم ،مئیر فار پیس،
میٹرو پولس،اسٹرانگ سٹیزن نیٹ ورک اور یوسی ایل جی جیسی بڑی فورمز کے ممبر ہیں۔
اسی سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یو این اکیڈمی آف مئیرز کے جینیوا کے پروگرام میں شرکت کرکے تربت و ملک کی نمائندگی کی ہے۔
بلخ شیر قاضی مئیر تربت نے بین الاقوامی فورمز میں نہ صرف تربت بلوچستان و پاکستان کی نمائندگی کی ہے بلکہ ایشیاء کی نمائندگی کی ہے اور عالمی فورمز میں اپنے علاقے کے مسائل کو اجاگر کیا ہے وہ ایک دوسرے سے خیالات و مشاہدات و تجربات شئیر کیے ہیں۔ یہ امر نہ صرف تربت بلکہ بلوچستان کیلئے باعث فخر ہے۔
بلخ شیر قاضی کا وژن صاف،محفوظ اور سر سبز و شاداب ہرا بھرا شہر بنانا ہے۔
نوجوان قیادت کو عملی میدان میں لانا۔تربت کے شہری ان کی خدمات کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ انہیں آئیندہ کے لئے ایک بڑی قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بلخ شیر قاضی وہ نام ہیں جو تربت کو نئی شناخت دے رہا ہے۔ بلخ شیر قاضی صرف مئیر نہیں وہ تربت کے خوابوں کا معمار اور نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہیں۔