|

وقتِ اشاعت :   October 21 – 2025

جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے غزہ بھر میں جاری ہیں، جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کے مختلف ہسپتالوں میں 57 فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں۔

 رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر ہیں، ان کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر بھی موجود ہیں۔

وفا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الامعری پناہ گزین کیمپ، البیرہ میں اسرائیلی فورسز کے چھاپہ کے دوران 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت 50 فلسطینی مریضوں کو علاج کے لیے منتقل کرے گا، یہ معلوم ہوا ہے کہ 50 فلسطینی یا تو ایسے مریض ہیں، جن کی حالت بیماری کے باعث بگڑ رہی ہے، یا وہ افراد ہیں جو اسرائیلی فورسز کے حملوں میں زخمی ہوئے اور جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

 

تاہم ابھی تک عملی طریقہ کار واضح نہیں ہے۔

 

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا انہیں ہسپتالوں سے منتقل کیا جائے گا، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ رفح کراسنگ استعمال کی جائے گی یا کریم ابو سالم کراسنگ۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت رفح کراسنگ گزشتہ بدھ سے کھل جانی چاہیے تھی۔

بہت سے فلسطینی غزہ سے نکلنے کے منتظر ہیں، جو یا تو علاج یا پھر اپنے اہلِ خانہ سے دوبارہ ملنے کے لیے جانا چاہتے ہیں، جن سے وہ جنگ کے دوران جدا ہو گئے تھے۔

اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں کم از کم 68 ہزار 216 فلسطین شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 361 زخمی ہو چکے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔

حماس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ثالثوں نے یقین دلایا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔

 

سینئر حماس رہنما خلیل الحیّہ نے کہا ہے کہ فلسطینی گروہ کو ٹرمپ اور ثالثوں دونوں کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔

 

خلیل الحیّہ نے کہا کہ حماس جنگ بندی معاہدے کے تحت تمام قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاشیں واپس حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کو امید ہے کہ غزہ میں امداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ محض نسل کشی کے سوا کچھ نہیں، اور انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزی کی سخت مذمت کی ہے۔

قطر کی قانون ساز اسمبلی شورىٰ کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اقدام کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ نسل کشی کے مرتکب افراد کو انصاف سے فرار نہ ہونے دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ بین الاقوامی برادری اب تک فلسطینی عوام کے سانحے کے حوالے سے احترام کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

امیر نے کہا کہ ہم فلسطین میں تمام اسرائیلی خلاف ورزیوں اور اقدامات کی مذمت دہراتے ہیں، خاص طور پر غزہ کی پٹی کو غیر قابلِ رہائش بنانے، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی، مغربی کنارے میں بستیوں کے پھیلاؤ، اور مقدس مسجد اقصیٰ کے احاطے کو یہودی رنگ دینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں زور دیا کہ ہم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی ایک متحد فلسطینی ریاست کے فلسطینی علاقوں کا لازمی حصہ ہے۔