|

وقتِ اشاعت :   October 22 – 2025

کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ نے ضلع کوئٹہ میں اساتذہ کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے محکمہ تعلیم سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس خیر محمد شاہین بنام ڈائریکٹر ایجوکیشن و دیگر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس سے متعلق پیرا وائز تبصرے پہلے ہی جمع کرائے جا چکے ہیں۔ حکومت بلوچستان کے مطابق اس وقت کوئٹہ میں دیگر اضلاع سے 224 اساتذہ تعینات ہیں، تاہم درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اصل تعداد 4000 سے زائد ہے، جو تعلیمی پالیسی 2025 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے مشاہدہ دیا کہ جب تک حقائق واضح نہیں ہوتے، کوئی حتمی حکم جاری کرنا ممکن نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنا مؤقف واضح اور مفصل بیان کی صورت میں جمع کرائیں۔

عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ ضلع کوئٹہ میں تعینات اساتذہ کی درست تعداد، اسکولوں کی کل تعداد، فعال اور غیر فعال اداروں کی تفصیل، اساتذہ کی کل تعداد، خالی آسامیوں اور ان کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے۔

عدالت نے یہ رپورٹ ڈائریکٹر اسکولز کے حلف نامے اور تمام متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) کے دستخط کے ساتھ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

کیس کی آئندہ سماعت 24 نومبر 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔