پچھلے مہینے میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر(مرک) کی جانب سے جاری کردہ پانچ سالہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سڑکوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 22اکتوبر 2019 تا 12ستمبر 2025 تک بلوچستان کی شاہراؤں پر تقریباً 77،826 حادثات رونما ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں 10،3902 افراد زخمی جبکہ 1،743 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جبکہ مرک کی سالانہ رپورٹ برائے 2024کے مطابق یکم جنوری 2024 تا دسمبر 2024 تک بلوچستان بھر میں ٹریفک کے 22252 حادثات رونما ہوئے ہیں۔ جن میں 402 افراد جان بحق اور 30596 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ سارے حادثات تربت، پنجگور، گوادر، لسبیلہ، خضدار، قلات، سوراب، واشک، بسیمہ، رکھنی، بارکھان،کوئٹہ، پشین اور لورلائی کی ہائی ویز پر ہوئے ہیں۔ یہ بلوچستان کا وہ بھیانک چہرہ ہے جسے مرک نے اپنی دو الگ الگ رپورٹوں کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کی رپورٹ کثیر الشاعت انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے جاری کی ہے جس کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس اسٹڈیز نے سیکورٹی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جو تحقیقی و تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچ کالعدم تنظیموں کی مجموعی کاروائیوں کے نتیجے میں صرف 225 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اگر اس رپورٹ کو درست مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تو روڈ حادثات کے نتیجے میں ہورہی ہیں۔ جس میں جانی نقصان کے ساتھ ساتھ بھاری بھر کم مالی نقصانات کا تخمینہ الگ ہے۔
ان تمام اعداد و شمار کے مطابق تشویشناک بات یہ ہے کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں روڈ حادثات کے نتیجے میں ہورہی ہیں جو اس وقت بلوچستان کے دیگر سنگین مسائل کے ساتھ ایک بہت ہی بڑا ،اہم اور حل طلب مسئلہ ہے جس سے دانستہ طور پر صرف نظر کیا جارہا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حساس مسئلے کا تذکرہ نہ مین اسٹریم میڈیا پہ دکھائی دیتا ہے اور نہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اور سماجی طبقات اس پر توجہ دے رہی ہیں، نہ اس پر حکومت بات کرتی ہے اور نہ حکومتی ادارے ایکشن لیتے ہیں۔ حالانکہ عام طور پر عدالت عالیہ ایک چھوٹی سی بات پر سوموٹو ایکشن لینے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتی لیکن ان دل دہلا دینے والے ٹریفک حادثات پر مکمل خاموش تماشائی ہے۔
اتنے بڑے پیمانے پر روڈ حادثات پاکستان کے کسی بھی صوبے میں نہیں ہوتے جتنے بلوچستان میں ہورہے ہیں بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب موٹروے پر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹریفک حادثات کے نتیجے میں صرف پانچ یا چھ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح ناقابل بیان ہے۔ اس سے ایک طرف بلوچستان میں سڑکوں اور شاہراوں کی خستہ حالی اور دوسری طرف صوبائی حکومتوں کی نا اہلی اور وفاقی حکومتوں کی عدم دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وفاق کو تو بلوچستان کے محکوم بلوچ عوام سے کوئی سر وکار نہیں اس کی نظریں صرف بلوچستان کی جغرافیہ، معدنی و قدرتی وسائل پر مرکوز ہیں۔ اس لیے ان وسائل کا سودا کبھی چین کے ساتھ تو کبھی امریکہ کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ تو کبھی اپنے بیرونی قرضے اتارنے کے لیے بلوچوں کی ایک اور قومی ملکیت ریکوڈک کو بھیچ دیا جاتا ہے۔
کوئٹہ، کراچی شاہراہ جسے خونی شاہراہ کا نام دیا جاتا ہے جس کا افتتاح موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سال 2022 میں کیا تھا جبکہ وزیر اعظم نے این ایچ اے کو تاکید کی تھی کہ اس دو رویہ سڑک کو تین سال کی بجائے ڈیڑہ سال کے اندر مکمل کیا جائے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس خونی شاہراہ کی تعمیر ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے۔ جس پر روزانہ سینکڑوں حادثات رونما ہورہے ہیں۔ لیکن اس تاخیر کے متعلق وفاقی حکومت اور نہ صوبائی حکومت متعلقہ ٹھیکہ دار اور این ایچ سے پوچھتی ہے۔
بلوچستان میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے خونی حادثات کے کئی ایک وجوہات ہیں۔ جن میں سرفہرست خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔ پورے بلوچستان میں ایک بھی دو رویہ شاہراہ موجود نہیں ہے۔ دوسری سب سے بڑی وجہ انتظامی و حکومتی نااہلی اور کرپشن ہے۔ ٹرانسپورٹ کا محکمہ موجود ہے لیکن باقی صوبائی محکموں کی طرح اس کی بھی کارکردگی صفر ہے۔ جس کی وجہ سے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسائل نے ایک اژدھاکی شکل اختیار کی ہے۔ ٹریفک قوانین کا نہ ہونا۔ اوور لوڑنگ، غیر تربیت یافتہ اور نا تجربہ کار ڈرائیوروں کی غفلتیں، بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ۔ مسافر بسوں کی مال برداری، مسافر بسوں کے ذریعے ڈیزل و پیٹرول کے کاروبار سمیت کئی عوامل ان ٹریفک حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ مکران ،کراچی اور مکران کوئٹہ روٹ کے تمام مسافر بسوں کے ذریعے ایرانی ڈیزل و پیٹرول کا کاروبار ایک معمول بن چکا ہے۔ حالانکہ اس کے نتیجے میں کئی المناک حادثات رونما ہونے کے سبب کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ ٹرانسپورٹ اور صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا کیونکہ ان ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بااثر شخصیات اور حکومتی اداروں کی مکمل حمایت اور پشت پنائی حاصل ہے۔ پچھلے سال تربت سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس کی روڈ حادثے کے نتیجے میں تقریباً اٹھائیس قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ واضح رہے اس بس حادثے میں یونیورسٹی آف تربت کے دو اسسٹنٹ پروفیسر بھی جان بحق ہوگئے تھے۔ نہ کوئی انکوائری ہوئی، نہ کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ بس کا روٹ پرمٹ کینسل ہوا۔ صرف ایک ہفتے کے لیے بس کمپنی کی تربت میں واقع آفس کو سیل کیا گیا۔بس یہی اس کی سزا تھی۔ یہ ان کے بااثر ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ یہاں قانون صرف اس کے لیے جس کا کوئی نہ ہو۔
مکران روٹ پر ٹریفک کے جتنے بھی حادثات ہورہے ہیں ان میں ایک اہم عامل ایرانی زمباد گاڑیاں بھی ہیں چونکہ یہ گاڑیاں ایران کے لیے بنائی گئی ہیں اور لفٹ اینڈ اسٹیرنگ ہیں یہ اپنی تیز رفتاری، اوور لوڑنگ اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کی وجہ سے شرح حادثات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ گزشتہ ایک ہی ہفتے میں انہی زمباد گاڑیوں کی وجہ سے تربت میں ٹریفک کے ایک درجن سے زائد حادثات رونما ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جان بحق ہوگئے ہیں جن میں یونیورسٹی آف تربت کا ایک نوجوان انجینئیر شاہ جہان بلوچ سمیت تین پڑھے لکھے نوجوان جو ایک ہی فیملی کے تھے اس حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ایک میڈیکل ڈاکٹر شدید زخمی ہوا ہے جو اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جبکہ ان کے لواحقین انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ بلوچستان میں یہ دردناک اور اندوہناک واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں جس کے نتیجے میں پڑھے لکھے نوجوان، خاندانوں کے کفیل، اداروں کے ملازمین، بہترین دماغ، مستقبل کے معمار، روشن ستارے اور خوبصورت چہرے سب کو اس بے وقت موت کا اژدھا بے دردی سے نگل رہا ہے۔ اورہھم کچھ نہیں کرپارہے ۔ ماتم، تعزیت، فاتحہ اور مذمتی بیانات اور اظہار یکجہتی کے سوا ،حالانکہ بلوچستان میں ہردس کلومیٹر کے فاصلے پر قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے ناکے اور چیک پوسٹیں قائم ہیں جن میں پولیس ، لیویز، ایکسائز، ایف سی ، کسٹم، کوسٹ گارڈ، اینٹی نارکوٹیکس، ایف آئی اے و دیگر شامل ہیں لیکن یہ تمام ادارے عوام اور مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے بجائے ان کے لیے باعث زحمت بنی ہوئی ہیں۔ انہیں ناجائز تنگ کرنا اور گھنٹوں گھنٹوں تک چیک پوسٹوں پہ اذیتیں دینا ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔ جب انہیں چاہ و پان اور لین مل جائے تو پھر ان کی نظروں میں ہر چیز جائز اور قانونی بن جاتی ہے۔ اگر کسی ریاست میں رشوت کا نام چاہ و پان اور بھتہ کا نام لین ہو تو وہاں یقیناانسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوگی۔
ٹریفک کے مسائل اور حادثات ہر ملک میں ہوتے ہیں لیکن وہ انکے متعلق قوانین بناتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کرواتے ہیں جیسے کہ حال ہی میںمتحدہ عرب امارات کی حکومت نے نئے ٹریفک قوانین کا اعلان کردیا ہے جو یکم نومبر سے نافذالعمل ہونگے جن میں موٹر سائیکل ، بس اور ٹرکوں یا بھاری گاڑیوں کے لیے الگ الگ لائن مختص کی گئی ہیں تاکہ حادثات پر قابو پانے ، ٹریفک کی روانی اور نظم وضبط کو بہتر بنانے، مسافروں اور سڑک استعمال کرنے والے دونوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
بلوچستان میں انسانی زندگی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے یہاں ایک اجتماعی موت کے خوف کو جنم دیا گیا ہے جو قبل از وقت موت کا خوف یا زندگی بھر اپا ہج رہنے اور درد سہنے کا خوف ہے۔ یوں بلوچستان بے وقت موت کی ایک گہری کھائی بن چکا ہے جبکہ لوگوں کو اس قدر بیگانہ اور بے حس بنادیا گیا ہے کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے اسے قدرت کا فیصلہ اور حادثاتی موت سمجھ کر فاتحہ پڑھنے اور تعزیت کرنے کے بعد فوراً اسے بھول جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بے وقت اموات ،حادثات اور سانحات نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی کا واضح مظہر ہیں جو کئی دہائیوں سے اس خطے میں رائج ہیں۔ یہ خالصتاً ایک سیاسی، سماجی اور انتظامی مسئلہ ہے ان تمام المناک حادثات اور دردناک سانحات کے پس پردہ عوامل انتظامی نااہلی، خراب طرز حکمرانی، ناقص پالیسیاں، اداروں کی غیر فعالیت، کرپشن ، احتساب کا نہ ہونا، سیاسی بے حسی اور سماجی روئیے ہیں یہ تمام مسائل اس نظام کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں بلکہ اس کے پروردہ ہیں جو انتہائی فرسودہ اور ناکارہ ہیں جسے نوآبادیاتی، استحصالی اور کرپٹ نظام کہا جاتاہے۔ اس نظام میں نہ کسی کی جان و مال کی حفاظت ہوسکتی ہے اور نہ اسے باعزت زندگی گزارنے کا حق دیا جاتا ہے۔ اس فرسودہ نظام میں انسان کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ اتنے بڑے بڑے حادثات کے باوجود اگر کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور اگلے دن اس سے بڑا اورواقعہ ہوجائے تو یقینا اس کی ذمہ داری اس کرپٹ نظام اور اس کے رکھ والوں پر عائد ہوتی ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صرف استحصال، لوٹ مار، کرپشن، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی خون پینے کے سوا کچھ نہیں۔ جب تک یہ استحصالی اور کرپٹ نظام موجود ہے تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے اور ہم ماتم اور تعزیت کرتے رہیں گے۔ ان جیسے تمام مسائل کا واحد حل لوٹ مار کے اس نظام کے خاتمے میں ہے۔ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر سمندر بْرد کرنے میں ہے۔