|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2025

دنیا کا سب سے حسین خواب “امن” ہے۔ مگر افسوس، یہ خواب ہمیشہ ٹوٹنے کے قریب رہا۔ انسان نے آسمانوں کو فتح کر لیا، سمندروں کی گہرائی ناپ لی، مگر اپنے ہی دل کے زخم نہیں بھر سکا۔ آج بھی زمین کے کسی نہ کسی کونے میں دھواں اٹھ رہا ہے، بچے روتے ہیں، مائیں بین کرتی ہیں، اور قومیں ایک دوسرے پر نعرے لگا کر اپنی شکست چھپاتی ہیں۔
کبھی سوچا ہے؟
ہم نے سائنس کو مسخر کیا مگر انسان کو نہیں۔ ہم نے ایٹم کو توڑ ڈالا مگر نفرتوں کی زنجیر نہیں توڑ پائے۔
طاقت کی ہوس — امن کا قاتل
دنیا کے تخت پر آج بھی وہی پرانے کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ صرف مہرے بدل گئے ہیں، چالیں وہی ہیں۔ طاقتور ملک امن کی بات کرتے ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں اور معیشتوں پر شکنجے ہیں۔ کوئی “جمہوریت” کے نام پر ملک توڑتا ہے، کوئی “دفاع” کے نام پر قتلِ عام کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں لمبی تقریریں سنائی دیتی ہیں، مگر زمین پر وہی خاموش چیخیں گونجتی ہیں — یمن کی، فلسطین کی، یوکرین کی، افریقہ کی۔
اسلحہ: خون کا کاروبار
دنیا بھر میں ہر منٹ لاکھوں روپے اسلحے پر خرچ ہو رہے ہیں، اور اتنی ہی رقم ایک بھوکے انسان کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ امن کی بات کرنے والے ہی سب سے زیادہ ہتھیار بیچتے ہیں؟
گویا امن ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک کاروبار بن چکا ہے۔
جنگوں کے بعد جو ممالک اجڑ جاتے ہیں، انہی کے لیے “امن مشن” بھی وہی ملک بیچتے ہیں جو پہلے بم گراتے ہیں۔
مذہب اور نفرت کی سیاست
خدا نے مذاہب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اتارے، مگر ہم نے انہیں اپنی دشمنیوں کا جواز بنا لیا۔
آج مذہب کے نام پر جو خون بہایا جا رہا ہے، وہ دراصل انسانیت کے بدن سے بہتا لہو ہے۔
انتہا پسندی کا نہ کوئی دین ہے، نہ کوئی ملک — یہ صرف لاعلمی اور نفرت کا سایہ ہے۔ جہاں کتابیں جلیں، وہاں دل بھی جل جاتے ہیں۔
غربت: امن کی خاموش دشمن
امن بھوکے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا۔
جب ایک بچہ اسکول کے بجائے فٹ پاتھ پر سو رہا ہو، اور دوسرا محض نام کی دولت میں غرق ہو — وہاں کوئی انصاف باقی نہیں رہتا۔
دنیا کے کچھ حصے سونے کے فرش پر چل رہے ہیں، اور کچھ ننگے پاؤں دھول میں بھٹک رہے ہیں۔ یہ تفاوت ایک دن پھٹنے والا آتش فشاں ہے۔
ماحولیات — خاموش جنگ
آج زمین خود تھک چکی ہے۔ دریا سوکھ رہے ہیں، ہوا زہر بن چکی ہے، درخت کٹ چکے ہیں۔
یہ سب بھی جنگ ہی ہے، مگر بغیر بندوق کے۔
کل جو جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں، وہ اب موسموں میں لڑی جا رہی ہیں — بارش کے قحط، درجہ حرارت کے طوفان، اور سمندروں کے بپھرے جالوں میں۔
یہ وہ جنگ ہے جس کا ہتھیار ہم سب ہیں، اور جس کے ہارنے والے بھی ہم ہی ہوں گے۔
مصنوعی ذہانت — نئی صدی کا خطرہ
اب ایک نیا محاذ کھل چکا ہے: مصنوعی ذہانت۔
ہم نے ایسی مشینیں بنائی ہیں جو سوچ سکتی ہیں، مگر احساس نہیں رکھتیں۔
کل کو اگر یہی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو شاید بندوق نہیں بلکہ ‘‘کوڈ’’ انسان کو مٹا دے گا۔
یہ خطرہ ابھی خاموش ہے، مگر مستقبل میں بہت بلند آواز میں بولے گا۔
اقوامِ عالم کی بے بسی
دنیا کے ادارے اب طاقتوروں کے غلام معلوم ہوتے ہیں۔
امن کی بات وہی کر سکتا ہے جس کے ہاتھ صاف ہوں — اور آج شاید کسی کے نہیں۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کاغذوں میں خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کے نیچے پڑے لاشوں کے ڈھیر حقیقت بتاتے ہیں۔
میڈیا: سچ کی موت
آج میڈیا بھی جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔
سچ چھپایا جاتا ہے، جھوٹ سجایا جاتا ہے۔
لفظوں کو ہتھیار بنا کر ذہنوں کو مارا جا رہا ہے۔
جو دکھایا جاتا ہے وہ حقیقت نہیں، اور جو حقیقت ہے وہ دکھائی نہیں جاتی۔
امید کی کرن
مگر ہر اندھیرے میں ایک دیا ضرور جلتا ہے۔
آج بھی دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو امن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر رہے ہیں — اساتذہ، صحافی، ڈاکٹروں کے قافلے، انسانی حقوق کے کارکن۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم سے انسانیت ابھی زندہ ہے۔
اگر ہم نے اپنے بچوں کو بندوق نہیں، کتاب دی — نفرت نہیں، محبت دی — تو شاید اگلی نسلیں اس زمین پر امن کا وہ خواب دیکھ سکیں گی جس کی تعبیر ہم نہ دے سکے۔
اختتامیہ
عالمی امن حکومتوں کے اجلاسوں سے نہیں، گھروں کے دلوں سے پیدا ہوتا ہے۔
جب ہر انسان اپنے اندر کے تعصب کو مار دے، جب ہم اپنی رائے کے بجائے دوسرے کے دکھ کو اہم سمجھیں — تب شاید زمین پر سناٹا نہیں، سکون اترے۔
دنیا کسی ایک قوم، مذہب یا نسل کی نہیں — یہ سب کی سانسوں کی امانت ہے۔
آئیے، اس امانت کی حفاظت کریں —
اس سے پہلے کہ انسان زمین پر رہے، مگر انسانیت زمین سے رخصت ہو جائے۔