|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2025

ملک بھرکے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں دائر کردی گئیں۔
گیس کمپنیوں نے ٹیرف میں 28.62 فیصد تک اضافہ مانگ لیا، اوگرا گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سوئی ناردرن کی درخواست پر 7 نومبر اور سوئی سدرن کی درخواست پر 11 نومبر کو الگ الگ سماعتیں کرے گا۔
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے سندھ اور بلوچستان کے لیے گیس ٹیرف میں گزشتہ سال کے بقایاجات شامل کرکے مجموعی طور پر گیس ٹیرف میں تقریبا 22 فیصد کے اضافے کی درخواست کی ہے۔
اسی طرح سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے اسلام آباد سمیت پنجاب اورخیبر پختونخوا کے لیے گیس ٹیرف میں 28.62 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے۔
سوئی ناردرن نے گیس ٹیرف میں اوسطاً 189روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ مانگا ہے جبکہ 316 روپے 64 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یوکاسٹ آف ایل این جی سروس کی مد میں بھی مانگے ہیں۔
سوئی ناردرن کی گیس کی اوسط قیمت ایل ایل این کاسٹ آف سروس کے بغیر 1955 روپے 50 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یومقرر کرنے کی درخواست ہے۔
سوئی ناردرن کی موجودہ اوسط گیس قیمت 1766ر وپے 50 فی ایم ایم بی ٹی یو ہے ،درخواست میں 52ارب 95 کروڑ روپے ریونیو شارٹ فال کا تخمینہ لگایا گیا ہے، سوئی ناردرن کی درخواست پر اوگرا 7 نومبر کو سماعت کرے گا۔
سوئی سدرن نے بقایاجات اور ایل این جی کاسٹ آف سروس کے بغیرگیس ٹیرف میں 125 روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یواضافے کی درخواست کی ہے، جبکہ گزشتہ سال کے بقایا جات اور ایل این جی کاسٹ آف سروس مد میں بھی سوئی سدرن نے اضافہ مانگا ہے۔
سوئی سدرن کی گیس کی اوسط قیمت میں بقایا جات اور ایل این جی کاسٹ آف سروس کے بغیر 1783 روپے 96 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقررکرنے کی درخواست کی گئی ہے، سوئی سدرن کی درخواست پر اوگرا 11 نومبر کو سماعت کرے گا۔
گیس کمپنیوں نے اضافہ رواں مالی سال 26-2025 کے لیے مانگا ہے، اوگرا کی جانب سے درخواستوں پر سماعتوں کے بعد فیصلے منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوائے گا، وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اوگرا گیس کی نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کرے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشن کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آر ایل این جی سے گھریلو صارفین کو معیاری ایندھن کی فراہمی ممکن ہوگی، ملک بھر میں لاکھوں صارفین گیس کنکشنز کے منتظر ہیں۔
گیس کنکشنز کی فراہمی بہت بڑا عوامی مطالبہ تھا۔
2022 میں حکومت سنبھالی تو گیس کنکشنز کی فراہمی کا بہت دباؤ تھا، سپلائی کم، مانگ زیادہ تھی، لاکھوں لوگ گیس کنکشنز کی فراہمی کیلئے انتظار میں تھے، جہاں پائپ لائنز بچھ چکی تھیں وہاں بھی گیس فراہمی ممکن نا تھی کیونکہ گیس موجود ہی نہیں تھی، ہم نے اس مسئلے پر توجہ دی۔
اب گھریلو صارفین کیلئے معیاری ایندھن دستیاب ہوگیا ہے۔
بہرحال گیس کنکشن کی بحالی اور فراہمی کے خوش آئند اعلان کے بعد مہنگی گیس صارفین کو فروخت کرنا زیادتی ہے۔
ملک کے سرد علاقوں میں موسم سرما کے دوران ویسے ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ زیادہ ہوتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں تو گیس فراہم ہینہیں کی جاتی، عوام گیس سلنڈر اور لکڑیوں کے استعمال پر مجبور ہیں مگر اس کے باوجود صارفین کو گیس کے بھاری بھر کم بل بھیجے جاتے ہیں، عوام پہلے سے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں اب موسم سرما کی آمد ہے ،شدید سرد موسم میں گیس نایاب ہو جاتی ہے، اگرکچھ دیر کیلئے گیس فراہم کی جاتی ہے تو اس کے چارجز عوام کی چیخیں نکال دیتی ہے۔
لہذا حکومت گیس کنکشن کے ساتھ سستی گیس کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ عوام شدید سردی میں دوہرے عذاب میںمبتلانہ ہوں۔