بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے حکومتی فیصلے پر لیویز اہلکار سراپا احتجاج ہیں ، لیویز اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کو وسعت دی جائے گی۔ بہرحال بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مجموعی طور بہتر نہیں ہے، اے ایریا اور بی ایریاز میں یکساں صورتحال ہے مختلف واقعات رونما ہورہے ہیں۔
بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے قیام امن میں بہتری آئے گی اس وقت ایف سی، پولیس، لیویز، بلوچستان کانسٹیبلری فورس امن و امان سمیت دیگر جرائم کے تدارک کیلئے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
بلوچستان میں امن کا قیام بڑا چیلنج ہے اس کا حل حکومت وقت لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے میں دیکھتی ہے لیکن اس عمل کی بلوچستان کی بعض جماعتیں حمایت نہیں کررہیں مگر بلوچستان حکومت نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا جائے گا ۔اس کا اظہار ایک بار پھر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز سینٹرل پولیس آفس میں آئی جی پولیس محمد طاہر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے طویل مدتی نتائج سامنے آئیں گے، پولیس میں میرٹ پر بھرتیوں کا میکنزم بنایا جائے گا، کوئی سیاسی مداخلت برداشت نہیں ہوگی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کیا گیا، ہمارے اس فیصلے سے پولیس پر مزید ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھاگ میں ایس ایچ او شہید ہوئے جنہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا، انہیں وفاق سے اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کا شکر گزار ہوں جو لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گا، ان پیسوں سے ہم پولیس کو مزید سہولیات فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مضبوط پولیس بنانے جا رہے ہیں، شہدا کے بچوں کو 16 سالہ تعلیم فراہم کی جائے گی، منشیات کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے گا، پولیس کے اندر جو کرپشن ہے اس کے خاتمے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ لیویز میں گولڈن ہینڈ شیک کا آپشن بھی لا رہے ہیں، دہشت گردی کی اس لڑائی کے سامنے ہم سب کو کھڑا ہونا ہوگا، اگر ہم کھڑے نہیں ہوں گے تو یہ لڑائی ہمارے گھر تک آ جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے ژوب، مکران اور رخشاں ڈویژن کے 13 اضلاع کو لیویز سے پولیس فورس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان اضلاع میں رخشاں ڈویژن کے چاغی، واشک، نوشکی اور خاران، ژوب ڈویژن کے بارکھان، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، موسیٰ خیل، شیرانی اور ژوب جبکہ مکران ڈویژن کے گوادر، کیچ اور پنجگور شامل ہیں۔
ان تینوں ڈویژنز میں مرحلہ وار لیویز ایریاز کو پولیس میں ضم کیا جا رہا ہے اور انتظامی معاملات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بہرحال لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل کرناضروری ہے۔
بلوچستان میں امن و خوشحالی سب کی ترجیح ہے ماضی میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر اس کے خاص نتائج برآمد نہیں ہوئے اور لیویز کو ایک بار پھر الگ فورس کا درجہ دیا گیا۔
لیویز فورس کا قیام برطانوی دور میں لایا گیا جو تب سے اب تک مقامی فورس کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتی آرہی ہے، لیویز کے اہلکار مقامی ہیں جو اپنے علاقوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں لیویز اہلکاروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر پولیس میں لیویز فورس ضم ہوگی تو ان کے دیگر علاقوں میں تبادلے سمیت دیگر مسائل پیدا ہونگے ان خدشات کودور کرنا بھی ضروری ہے۔
بہرحال بلوچستان میں قیام امن کیلئے سب کو بلوچستان کے مفاد کو ترجیح دیناہوگا اور پیدا ہونے والے مسائل کا حل خوش اسلوبی سے نکالنا ہوگا تاکہ بلوچستان میں امن و ترقی ممکن ہوسکے۔