ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاںبجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے منافع وصول کررہی تھیں جو براہ راست عوام کی جیبوں اور صنعتکاروں سے لیا جارہا تھا۔
ان کمپنیوں کے مالکان کے حوالے سے یہ الزامات بھی سامنے آئی تھیں کہ ملک کا مخصوص اشرافیہ ،کاروباری اور چند بااثر سیاسی شخصیات ان کمپنیوں کے مالک ہیں مگر ان کے نام سامنے نہیں لائے گئے۔
یہ وہ شخصیات ہیں جو ہر حکومت کا حصہ اور بینفیشری ہوتے ہیں ۔
ملک کا بڑا المیہ یہی ہے کہ اشرافیہ نہ ٹیکس دیتا ہے اور نہ ہی وہ ملک کے قومی خزانے کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ منافع کما کر بیرونی ممالک اپنی رقم منتقل کرتا ہے وہاں جائیدادیں خریدتا ہے ، وہیں سرمایہ لگاکر ٹیکس بھی باقاعدگی سے وہاں کے قوانین کے مطابق ادا کرتاہے جبکہ ہمارے یہاں نظام کو مفلوج کرکے اسے کرپٹ بناکر لوٹ مار کیا جاتا ہے اب یہ سلسلہ رک جانا چاہئے ،ملک کے وسیع ترمفاد میں فیصلے ہونے چاہئیں۔
ایک اچھی پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ آئی پی پیز سے معاہدوں کو منسوخ کرکے نظرثانی کی گئی ہے جس سے حکومت کو اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے۔
ذرائع وزارت توانائی کا بتانا ہے کہ دباؤ کے باوجود متعدد آئی پی پیز سے معاہدے منسوخ کیے گئے اور ان معاہدوں کی منسوخی اورنظرثانی سے 3600 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
20 سال قبل 40 آئی پی پیز سے بجلی کے مہنگے معاہدے کیے گئے تھے، بجلی پیدانہ کرنے کے باوجود کپیسٹی چارجزکی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیاں ہوئیں، آئی پی پیزکے مہنگے معاہدوں سے عوام کی جیبوں سے 3.6 ٹریلین روپے سالانہ نکلوائے جانے تھے۔
اس حوالے سے صنعتکار برادری کا کہنا ہے کہ 40 خاندانوں نے آئی پی پیز معاہدے کرکے ملک کو یرغمال بنائے رکھا ہے، بند پاور پلانٹس کے باوجود اربوں روپے وصول کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے نمایاں کام کیا اور اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی۔
توانائی کے شعبے کو جدید خطور پر استوار کر رہے ہیں، جہاں موقع ملا عوام کو ریلیف فراہم کرنے ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے تکنیکی مسائل کو حل کرکے اربوں روپے کی بچت کی جب کہ گزشتہ 18ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے10فیصد تک کمی کی ہے۔
بہرحال آئی پی پیز سے معاہدوں کی منسوخی سے اب اربوں روپے کی بچت ہوگی ،اس رقم کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہئے ،بجلی بلوں کے مد میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ طویل لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام سمیت مقامی صنعتکاروں کی مشکلات کم ہو جائیں۔
موجودہ حکومت کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئی پی پیز سے دوبارہ ایسا کوئی معاہدہ نہ کرے جو بجلی تو پیدا نہیں کرتے مگر قومی خزانے سے اربوں روپے بٹورتے ہیں۔
آئی پی پیز سے معاہدوں کی منسوخی، اربوں روپے کی بچت، عوام اور مقامی صنعتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت!
![]()
وقتِ اشاعت : November 5 – 2025