|

وقتِ اشاعت :   November 20 – 2025

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ جامعہ بلوچستان طلبہ کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ ادارہ جنسی ہراسمنٹ، کرپشن، کمیشن خوری اور اقربا پروری کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن نے یونیورسٹی کو ذاتی جاگیر میں تبدیل کر رکھا ہے۔ برائے نام ٹینڈر نکالے جاتے ہیں اور کروڑوں روپے کے ٹھیکے انہی من پسند ٹھیکہ داروں کو دیے جاتے ہیں جو برسوں سے یونیورسٹی کا خون چوس رہے ہیں۔

بدنام زمانہ جاوید اقبال کے دست راست جنسی ہراسمنٹ میں ملوث افراد کو ایک بار پھر جامعہ بلوچستان میں داخل کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر کروڑوں روپے کے فراڈ کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں، جن کے خلاف عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور جنہیں عدالتوں نے نااہل قرار دے رکھا ہے۔ انہی مجرموں کو دوبارہ اہم عہدوں پر بٹھا کر کھلی عدالت کی توہین کی جا رہی ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جو طلبہ کے جائز احتجاج پر “عدالت کا حکم” یاد کرتے ہیں، لیکن جب کمیشن، کرپشن اور لوٹ مار کی باری آتی ہے تو قانون، ضابطے اور میرٹ سب بھول جاتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار طلبہ کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

ترجمان نے مزید کہاکہ جامعہ بلوچستان طلبہ کا ادارہ ہے، کسی کرپٹ مافیا کی ذاتی جاگیر نہیں۔ طلبہ کی آینده کی تباہی اور تعلیمی ماحول کی بربادی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ترجمان نے آخر میں کہاکہ اگر انتظامیہ ڈی جی ایڈمن اور ان کے حواریوں کے خلاف فوری اور ٹھوس کارروائی نہیں کرتے تو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پرامن مگر سخت احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی، اور اس کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عاید ہوگی۔