بلوچستان میں گیس کی فراہمی کا مسئلہ تاحال برقرار ہے ،شدید سردی میں لوگ گیس کی عدم فراہمی سے ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں، سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس کی فراہمی معطل کی جاتی ہے ۔
جن علاقوں میں تھوڑی بہت گیس دی جاتی ہے وہاں بھی پریشر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔
یہ ناروا رویہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ کمپنی اپناتی ہے۔ سوئی سے نکلنے والی گیس سے اس کے اپنے ہی عوام محروم ہیں جبکہ ملک کے دیگر صوبوں کو بلا تعطل گیس فراہم کی جاتی ہے جن سے بڑی بڑی صنعتیں چل رہی ہیں اور گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی ہوتی ہے۔
بلوچستان میں گیس کی عدم فراہمی پر تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں، متعدد بار اپنا احتجاج ریکارڈ بھی کراچکے ہیں لیکن سوئی گیس حکام کی طلبی اور شکایات کے فوری ازالے کے مطالبے پر اب تک عمل نہیں ہوا۔
بلوچستان میں اب موسم شدید سردہوچکاہے مگر گیس فراہم نہیں کی جارہی جس پربلوچستان اسمبلی نے صوبے کے سرد علاقوں میں گیس اور گرم علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کرلی۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبد الخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے بلوچستان کے سرد علاقوں میں گیس اور گرم علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی۔
صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی ، زرک مندوخیل، ظفر آغا ، سنجے کمار ، عاصم کردگیلو ، زاہد علی ریکی ، زرین مگسی اور میر علی مدد جتک نے قرارداد پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
اسپیکر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان وزیراعظم سے ملاقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ گیس اور بجلی کے سنگین مسائل کے حل کیلئے مؤثر حکمت عملی بنائی جاسکے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ بلوچستان اسمبلی میں گیس اور بجلی کی عدم فراہمی پر قرارداد پیش کی گئی ہے اس سے قبل بھی متعدد قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں۔
اراکین اسمبلی نے اس مسئلے پر شدید برہمی کا بھی اظہار کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے ساتھ زیادتی قرار دیا۔لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بلوچستان میں خاص کر گیس اور بجلی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرے ،سرد موسم میں صارفین کو گیس کی فراہمی مستقل بنیادوں پر یقینی بنائے ۔
یہ دیرینہ مسئلہ ہے سوئی گیس حکام کی طلبی کرکے سرزنش کی جائے اور پابند کیا جائے کہ بلوچستان میں گیس کی فراہمی یقینی بنائیں۔
المیہ ہے کہ صوبے سے نکلنے والی گیس بلوچستان کے عوام کو نصیب نہیں، یہ محرومی پیدا کردہ ہے ،بلوچستان کے گیس سے دیگر صوبے مستفید ہوں اور بلوچستان اس سے محروم رہے اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے ،انہی رویوں سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے لہذا بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل سے نکالا جائے انہیں بنیادی سہولیات تو میسر کی جائیں جو ان کابنیادی حق ہے۔
بلوچستان میں شدید سردی میں گیس غائب، سوئی سدرن گیس کی ہٹ دھرمی، عوام اذیت میں مبتلا!
![]()
وقتِ اشاعت : November 22 – 2025