کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس کمیٹی روم میں چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین زمرک خان اچکزئی، زابد علی ریکی، رحمت صالح بلوچ، صفیہ بی بی اور فضل قادر مندوخیل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات (P&D) آصف علی فرخ، ایڈیشنل سیکرٹری PAC سراج لہڑی اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی سید ادریس آغا بھی موجود تھے۔
اجلاس میں پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ کے Thematic (موضوعاتی) آڈٹ پیراز پر غور ہوا جسمیں میں پائیدار ترقیاتی اہداف Sustainable Development Goals (SDGs) کے تحت فنڈز کی ترجیحی تقسیم، مالی سال 2021-22 کے پی ایس ڈی پی (PSDP) تخمینوں، منصوبوں کی سست روی، ناقص منصوبہ بندی، اور فنڈز کے غیر مؤثر استعمال سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیڈرل سپورٹ یونٹ نے ملکی ضروریات کے مطابق SDGs کو تین ترجیحی زمروں میں تقسیم کیا ہے
تاکہ صوبے ان اہداف کی روشنی میں اپنے ترقیاتی منصوبے تشکیل دے سکیں۔ تاہم مالی سال 2021-22 کے پی ایس ڈی پی کے جائزے سے انکشاف ہوا کہ حکومت بلوچستان نے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کے وقت SDGs کو ترجیح نہیں دی۔ صوبے میں بھوک کے خاتمے اور غربت میں کمی کے لیے منصوبہ بندی و ترقیات کے محکمے کی جانب سے کوئی جامع پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا
کہ مجموعی طور پر 189,196 ملین روپے کے پی ایس ڈی پی میں سے صرف 5,452 ملین روپے مختلف شعبوں جیسے منصوبہ بندی و ترقیات، انسانی وسائل، خواتین ترقی، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، آبادی بہبود اور سماجی بہبود کے لیے مختص کیے گئے، جو فیڈرل سپورٹ یونٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث SDGs کو مؤثر انداز میں ترجیح نہیں دی جا سکی جس سے پائیدار ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ SDGs کو ترجیحی بنیادوں پر اپنایا جائے اور دستیاب وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر SDGs کا دستخط کنندہ ہے،
اس لیے ان اہداف پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ناکافی فنڈز کی فراہمی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ (BPFM) ایکٹ 2020 کے سیکشن 16(2) کے مطابق کسی بھی نئے ترقیاتی منصوبے کے لیے کم از کم 33 فیصد فنڈز مختص ہونا لازمی ہے، تاہم مالی سال 2021-22 میں 326 نئے منصوبوں کی مجموعی لاگت 127,149.90 ملین روپے تھی جبکہ ان کے لیے صرف 23,953.33 ملین روپے (18 فیصد) مختص کیے گئے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس ناقص منصوبہ بندی کے باعث منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوگا۔کمیٹی نے منصوبہ بندی و ترقیات کے محکمے کو ہدایت کی کہ وہ تمام محکموں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹس طلب کرے اور 326 منصوبوں کے حوالے سے مکمل ریکارڈ کمیٹی میں پیش کیا جائے کہ آیا یہ منصوبے مکمل ہوئے یا نہیں۔
اجلاس میں ان منصوبوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا جن پر 2,534.807 ملین روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صرف زمین کے معاوضے اور یوٹیلٹی اداروں کو ادائیگیاں کی گئیں، تاہم نہ زمین کا حصول مکمل ہوا اور نہ ہی عملی تعمیراتی کام شروع کیا گیا۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو عوامی وسائل کے ضیاع کے مترادف قرار دیا۔
کمیٹی اراکین نے کوئٹہ پیکیج منصوبوں میں تاخیر، ناقص نگرانی اور سڑکوں کی حالیہ تعمیر کے بعد دوبارہ توڑ پھوڑ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ محکمہ وضاحت پیش کریں کہ نئی تعمیر شدہ سڑک (سبزل روڈ) کو کیوں توڑا جارہا ہے اس سے پہلے منصوبہ بندہ کیوں نہیں کی گئی۔ جس پر عوام کے اربوں روپے ضائع ہوگئے۔ جبکہ بلوچستان یونیورسٹی کے قریب روڈ کی توسیع نہیں کی گئی اور اس بارے میں شنید میں آیا ہے
کہ عدالت عالیہ میں درختوں کا جواز پیش کر کے روڈ کو ڈائیورٹ کیا گیا۔ جبکہ میں نے خود وہاں کا وزٹ کیا ، وہا ں پر دور ایک ساتھ صرف دوچھوٹے درخت ہیں۔ باقی وہاں پر درختوں کی کوئی قطار وغیرہ نہیں ہیں، جو کہ کوئٹہ کے عوام کے سامنے ہیں اور وہ دیکھ بھی رہے ہیں۔ اب وہاں پر دوبارہ پٹرول پمپس وغیرہ بن رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس بارے میں فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اعلان کیا کہ سات دن کے اندر ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں کوئٹہ پراجیکٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مالی سال 2021-22 میں 247 ترقیاتی منصوبوں کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا
جبکہ ان منصوبوں پر گزشتہ برسوں میں بھاری رقوم خرچ ہو چکی تھیں اور اب ان پراجیکٹس کو ادھورا چھوڑا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو کمزور انتظامی اور مالی نظم و نسق کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کو ادھورا چھوڑنا قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔آخر میں کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ پی اینڈ ڈی کا محکمہ صوبے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے تمام ترقیاتی منصوبوں کی سخت نگرانی، بروقت تکمیل اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، محکمہ خزانہ کے ساتھ مل کر ایگزیکیوٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی کرے اور تمام ذمہ داران کا تعین کر کے ان سے باز پرس کی جائے۔