بلوچ سرزمین ایک بار پھر ایک عظیم بیٹے کو الوداع کہہ چکی ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بانی رہنما، ماما قدیر بلوچ اب ہم میں نہیں رہے۔ ایک طویل، ثابت قدم اور بے مثال سیاسی جدوجہد کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا مشن چھوڑ گئے ہیں جو ہر بلوچ فرزند کے لیے ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔
ماما قدیر صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک تحریک کا نام بن چکے تھے۔ ان کی جدوجہد کا آغاز ذاتی المیے سے ہوا، لیکن انہوں نے اسے ایک اجتماعی آواز میں ڈھال دیا۔ بیٹے جلیل ریکی کی جبری گمشدگی اور پھر مسخ شدہ لاش کی واپسی نے ماما قدیر کو توڑنے کے بجائے مزید مضبوط کر دیا۔ وہ کوئٹہ سے کراچی، کراچی سے اسلام آباد اور پھر عالمی فورمز تک لاپتہ افراد کی آواز بنے رہے۔
بلوچستان کا ضلع سوراب نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ اس نے سیاسی شعور، قربانی اور جدوجہد کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں۔ اس مٹی نے بے شمار نڈر سیاسی رہنما پیدا کیے جنہوں نے اپنی قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہی میں ایک نام ماما قدیر بلوچ کا ہے۔ وہ باپ، جس نے ذاتی المیے کو ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔
ماما قدیر بلوچ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے بیٹے جلیل ریکی کو 13 فروری 2009 کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے لاپتہ کر دیا گیا۔

تین سال بعد یعنی 23 نومبر 2011 کو اس کی مسخ شدہ لاش ضلع کیچ سے ملی۔ جلیل ریکی ایک بینک میں ملازم تھے۔ کچھ عرصے بعد وہ ملازمت چھوڑ کر نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی میں شامل ہوگئے۔ نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کی وابستگی نواب صاحب کے پوتے براہمداغ بگٹی سے ہوگئی اور انہیں بلوچ ریپبلکن پارٹی کا مرکزی سیکریٹری اطلاعات مقرر کردیا گیا۔
ماما قدیر نے اپنے بیٹے کی مسخ شدہ لاش ملنے کے بعد یہ طے کیا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دیگر لاپتہ افراد کی وہ آواز بنیں گے اور اس کے بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے۔ یہ سلسلہ انہوں نے اپنے بیٹے کے اغوا کے فوراً بعد شروع کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں ماما قدیر نے کہا: “میرا ذہن نہیں مانتا تھا کہ وہ اُسے (جلیل ریکی) مار دیں گے۔ اُنہوں نے اِتنا عرصہ جلیل کو قید میں رکھا۔ تشدد کیا، تفتیش کی، میرا خیال تھا اب اُس کو کیوں ماریں گے”؟۔
یہ الفاظ ایک باپ کے دل کا درد بھی ہیں اور اس مزاحمت کی وہ چنگاری بھی، جس نے ایک تحریک کو جنم دیا۔
ماما کا احتجاج روز کا معمول بن گیا۔ بارش ہو، طوفان ہو یا قہر برساتی دھوپ، ماما قدیر کا احتجاجی کیمپ کبھی ختم نہ ہوا۔ سردیوں میں کراچی پریس کلب کے سامنے، گرمیوں میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے، اور بعض اوقات اسلام آباد میں بھی وہ اپنا کیمپ لگا لیتے۔
مگر ان کی سب سے تاریخی جدوجہد وہ تھی جسے دنیا نے “طویل ترین پیدل مارچ” کے نام سے جانا۔ کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک کا یہ سفر، صرف فاصلوں کا نہیں، قربانی، ہمت اور مزاحمت کا سفر تھا۔ چار مہینے تک جاری رہنے والا یہ مارچ عالمی ریکارڈ بن گیا۔
ماما قدیر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم رہے۔ وہ بلوچستان کی تاریخ میں مزاحمت، استقامت اور قربانی کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کا کردار اس بات کی گواہی ہے کہ ایک فرد کی ہمت، پوری قوم کی آواز بن سکتی ہے۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی، انصاف اور قومی شعور کی بیداری کے لیے وقف رہا۔ ان کا احتجاج صرف بینروں، کیمپوں اور لانگ مارچ تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ اپنے وجود سے مزاحمت کا استعارہ بن چکے تھے۔
لیکن اب وہ نہیں رہے۔ مگر ان کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔
ماما قدیر ہمیں ایک “ادھورا کام” دے کر گئے ہیں، جسے مکمل کرنا اب ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بلوچ قوم کے ہر فرد کو، ہر نوجوان کو، ہر ماں، بہن اور بزرگ کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کے غم کو ایک قومی تحریک میں بدل سکتا ہے تو ہم خاموش کیوں ہیں؟
یہ آواز ہمیں جھنجھوڑتی رہے گی، یاد دلاتی رہے گی کہ مشن ابھی باقی ہے۔