|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2025

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری ہوگئی، عارف حبیب گروپ نے خسارے میں چلنے والے قومی ادارے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔ اس سے قبل نیلامی کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دو ممکنہ خریداروں عارف حبیب اور لکی سیمنٹ نے 100 ارب روپے کی مقررہ بنیادی قیمت ( price reference) سے زائد کی بولیاں دی تھیں۔

نیلامی کے دوسرے مرحلے کا آغاز 115 ارب روپے کی بنیادی قیمت سے ہوا تھا۔ دوسرے مرحلے کے وقفے سے قبل لکی سیمنٹ نے اپنی بولی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 120.25 ارب روپے کر دیا جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر 121 ارب روپے کر دی۔ ان بولیوں کے بعد دونوں کنسورشیمز نے 30 منٹ کے وقفے کا فیصلہ کیا۔ لکی کنسورشیم نے 134 ارب روپے جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی لگادی اور اس طرح وہ پی آئی اے کا مالک بن گیا۔ واضح رہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی ہوئی ہے، 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔

پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔ حکومت کی جانب سے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہو جبکہ اداروں کو منافع بخش بناکر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے۔

ماضی میں ملک کے بیشتر ادارے منافع میں چل رہے تھے مگر بیورو کریسی، سیاسی مداخلت، من پسند افراد کو اداروں میں نوازنے ،بے ضابطگیاں، مبینہ کرپشن کی وجہ سے ادارے خسارے میں گئے جس کا قومی خزانے کو ناتلافی نقصان پہنچا۔ اگر شفافیت اور میرٹ سے اداروں کو چلایا جاتا تو ادارے خسارے میں نہ جاتے۔ بہرحال اب پی آئی اے کی نجکاری ہوگئی ہے۔ قومی ائیر لائن کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب روپے ملیں گے۔ عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جیت ہوئی، پی آئی اے کو دوبارہ سے عظیم بنانے کے لیے محنت کریں گے۔

نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور بیرون ملک سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ مقامی کاروباری شخصیات کی جانب سے ملک میں سرمایہ کاری ایک اچھی پیش رفت ہے جس سے مزید سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کرینگے اور ملکی معیشت کو مزید بہتر بنانے، اداروں کو منافع بخش اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرینگے جس سے عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔