|

وقتِ اشاعت :   December 26 – 2025

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے لیے پنجاب کے میڈیکل کالجز میں مختص گڈوِل سیٹس پر داخلوں کے عمل کو روکنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ تنظیم اس فیصلے کو بلوچستان کے طلبا کے ساتھ صریح ناانصافی قرار دیتی ہے اور متاثرہ طلبا و طالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے تمام ڈویژنز سے ایم ڈی کیٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو ماضی میں ہمیشہ گڈوِل سیٹس کے تحت پنجاب کے میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا جاتا رہا ہے۔ یہ عمل حکومتِ بلوچستان کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق مکمل کیا جاتا تھا، جس کے تحت طلبا سے دستاویزات وصول کی جاتیں، ٹینٹیٹو لسٹ جاری کی جاتی، ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویوز منعقد ہوتے اور بعد ازاں فائنل سلیکشن لسٹ جاری کی جاتی تھی۔

ترجمان کے مطابق رواں سال متاثرہ طلبا کا داخلہ تمام مراحل مکمل کر چکا تھا اور فائنل سلیکشن کے بعد صرف جوائننگ کی تاریخ جاری ہونا باقی تھی، تاہم عین آخری مرحلے پر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) کی جانب سے اچانک پالیسی تبدیل کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پورے بلوچستان کے طلبا شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ڈویژن وائز کوٹہ سسٹم ختم کر کے اوپن میرٹ نافذ کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست نقصان بلوچستان کے پسماندہ ڈویژنز کو ہوگا۔ اس فیصلے سے فائدہ صرف نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں جیسے کوئٹہ اربن، کوئٹہ رورل اور لورالائی کو پہنچے گا، جبکہ قلات، ژوب، سبی، نوشکی، تربت اور دیگر محروم ڈویژنز کے قابل اور محنتی طلبا اپنے جائز حق سے محروم رہ جائیں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ماضی میں پنجاب کے میڈیکل کالجز میں بلوچستان کے طلبا کی سلیکشن میں ہر ڈویژن کو آبادی کے تناسب سے مساوی سیٹس دی جاتی تھیں اور لوکل سرٹیفکیٹس کی تصدیق کے لیے انٹرویوز کا انعقاد کیا جاتا تھا، جس سے نان لوکل امیدواروں کو بلوچستان کے طلبا کے حق پر قبضے کا کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ نئی پالیسی کے تحت نہ تو انٹرویوز ہوں گے اور نہ ہی مؤثر جانچ پڑتال، جس سے نان لوکل امیدواروں کے لیے راستہ ہموار ہونے کا خدشہ ہے۔

بیان میں اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے 2024 اور 2025 دونوں کے امیدواروں کو ایک ہی سال اپلائی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وہ طلبا جنہوں نے ایک سال انتظار کیا اور جن کی سلیکشن پہلے ہی فائنل ہو چکی تھی، انہیں نئے امیدواروں کے ساتھ دوبارہ مقابلے میں ڈالنا سراسر ناانصافی اور غیر منصفانہ عمل ہے۔ مزید یہ کہ 2024 کا نتیجہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس سے معاملہ مزید حساس ہو چکا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون نے واضح کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو تنظیم متاثرہ طلبا کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جمہوری دائرۂ کار میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔