|

وقتِ اشاعت :   January 2 – 2026

پروفیسر امان اللہ بلوچ، جنہیں امان اللہ ساجد کے قلمی نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک معروف تعلیمی و سماجی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ خدمات، اور ادبی کارناموں سے اپنے آپ کو ممتاز کیا ہے۔ وہ ایک محنتی، ذہین، اور علم دوست شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کو تعلیم، سماجی خدمت، اور ادب کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک الگ، باکمال، پراثر اور انوکھا صلاحیت وجود پذیر ہے جو حقیقی طور پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ اور متاثر کرتا ہے، اور ان کی خدمات بلوچستان کی تاریخ میں ایک کلیدی مقام رکھتی ہیں۔

امان اللہ ساجد یکم جنوری 1966 کو آبسر تربت ضلع کیچ کے ایک معزز بلوچ گھرانے واجہ گل محمد کے گھر میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اپنے آبائی علاقے سے کیا اور بعد میں یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ سے عمرانیات(ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی) میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ایم اے کے تحقیقی مقالے کے طور پر “Joint Family System in Village Koshkalat District Kech” کے موضوع پر ایک موثر تحقیقی مقالہ لکھا، جس نے بلوچستان کے سماجی علوم میں ایک اہم تحقیقی و مطالعی معلومات اضافہ کر لیا۔

پروفیسر امان اللہ ساجد کی پیشہ ورانہ خدمات بہت وسیع ہیں۔ انہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیں، جن میں گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تربت کیچ، گورنمنٹ ڈگری کالج بیلہ، پرنسپل گورنمنٹ بوائز انٹر کالج تمپ، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گوادر، ڈائریکٹر بیکٹ کوئٹہ اور ڈائریکٹر کالجز ہائیر ایجوکیشن گورنمنٹ آف بلوچستان کوئٹہ شامل ہیں۔

امان اللہ ساجد نے اپنے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 11 فروری 1991 کو گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج پنجگور میں بطور لیکچرار عمرانیات کے حیثیت سے کیا۔ پروفیسر امان اللہ نے 28 اکتوبر 2015 کو بی پی ایس سی کوئٹہ سے پروفیسر کا امتحان پاس کرکے ڈائریکٹ پروموشن ملا۔ انہوں نے مارچ 2022 کو گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تربت کیچ میں پرنسپل کے عہدے پر تعیناتی کے بعد ڈائریکٹر بیکٹ کوئٹہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔

 

پروفیسر امان اللہ ساجد نے کل 35 سال گورنمنٹ سروسز سرانجام دیں۔ انہوں نے 15 سال کے انتظامیہ کے تجربات بحیثیت پرنسپل بلوچستان صوبہ کے مختلف کالجوں میں کام کیا۔ انہوں نے محکمہ کالجز ہائیر ایجوکیشن گورنمنٹ آف بلوچستان کوئٹہ میں پہلا ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر DMO کی عہدے کے پر فائز ہوئے جو ایک انتہائی اہم اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔

امان اللہ ساجد نے تعلیمی اداروں کی ترقی اور بہتری کے لیے بہت سے اہم پروجیکٹس پر بھی کام کیے ہیں۔ انہوں نے NES-PAK ادارے کے لیے میرانی ڈیم ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ اس عہدے پر کام کرتے ہوئے انہوں نے متاثرہ افراد کی آباد کاری اور ان کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

پروفیسر امان اللہ ساجد کی پرنسپلشپ انتظامیہ بہت پراثر رہی ہے۔ انہوں نے مختلف کالجوں میں پرنسپل کے عہدے پر کام کرتے ہوئے سخت اصولوں اور حکمت عملیوں کو اپنایا ہے۔ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے تعلیمی اداروں کی ترقی اور بہتری میں اہم کردار ادا کیے ہیں۔

پروفیسر امان اللہ ساجد ایک تحقیقی اسکالر اور تخلیقی نقاد بھی ہیں۔ انہوں نے تعلیمی فن و ذوق سماجی اصلاحات و اُجاگری پر مبنی کام کیا ہے۔ وہ ایک انسان دوست و علم دوست شخصیت ہیں، وہ علم، ادب و لسانیات سے محبت رکھتے ہیں۔ پروفیسر امان اللہ ساجد نے بلوچی، اردو، اور فارسی زبانوں اور ادبیات پڑھنے اور لکھنے میں اپنی لسانی و ادبی شوق وجذبہ پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے ادبی خدمات کا رجحانات بالخصوص اردو شاعری پڑھنے اور لکھنے میں انتخاب کیا۔ ان کی شعری مجموعے میں بلوچستان کی ثقافت، تاریخ، اور سماجی مسائل کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے اردو ادب کے مشہور شعراء کرام کی نظریات اور اشعار کا گہرا مطالعہ کیا ہے، جن میں فیض احمد فیض،احمد فراز،مہدی حسن،مجروح سروش،ساحر لدھیانوی،جوش ملیح آبادی،حبیب جالب اور بہت سارے شعراء حضرات شامل ہیں۔ان شعراء کی ترقی پسند نظریات اور شاعری نے امان اللہ ساجد کی سماجی پختگی اور شاعری کی سوچ کو فروغ دینے میں بااثر کردار ادا کرتے ہوے اسکو ایک تخلیقی شاعر کا مقام سنبھالا ہے۔ انہوں نے ان شعراء کے نظریات کو اپنی شاعری میں شامل کیا ہے اور ان کے ذریعے لوگوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی دیتے ہوئے ان کے دلوں میں ایک مثالی اور مؤثر جگہ بنائی ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

پروفیسر امان اللہ ساجد آج بروز بدھ 31 دسمبر 2025 کو گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تربت کیچ میں پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کی ریٹائرمنٹ ایک یگ کا اختتام ہے، لیکن یہ ایک نئے آغاز کا بھی آغاز ہے۔ انہوں نے اپنی خدمات سے تعلیمی اداروں کی ترقی اور بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور اب وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تعلیم اور ادب کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی مستقبل کی کامرانیوں کے لیے نیک تمنائیں کرتے ہیں