|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔

ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔