|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا امریکہ کو 30 سے 50 ملین یعنی تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا، جو ایک غیر متوقع فوجی آپریشن کے بعد ممکن ہوا ہے جس میں صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ان کے کنٹرول میں ہوگی تاکہ اسے وینزویلا اور امریکہ کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آئندہ 18 ماہ میں امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں دوبارہ فعال ہو جائے گی اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آئے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق وینزویلا کی سابقہ پیداوار بحال کرنے میں ممکنہ طور پر دہائی اور اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے، جبکہ مادورو کو منشیات اور اسلحہ سمگلنگ کے الزامات پر ایک آپریشن کے حراست میں لے کر امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

 

پیر کو این بی سی نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونا امریکہ کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم رہتی ہیں۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے ڈھانچے کو درست کر سکتی ہیں۔

وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیں، تاہم اس کی تیل کی پیداوار سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے مسلسل کمی کا شکار ہے۔