|

وقتِ اشاعت :   January 8 – 2026

کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور حالیہ گرفتاریوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان بھر میں 90 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کارروائیوں میں 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے آخری تین ماہ میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

حمزہ شفقات کے مطابق دہشت گردی کے سدباب کے لیے ایک نیا ادارہ نیفٹیک قائم کیا گیا ہے جسے مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے صوبے کو اے ایریا میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک خطرناک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد ساجد احمد عرف شاویز نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جبکہ وہ تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔ ساجد کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ وہ تربت کا رہائشی اور کالعدم تنظیم سے وابستہ تھا۔

اس موقع پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ساجد تربت میں کالعدم تنظیم کے لیے ریکی اور سہولت کاری میں ملوث رہا اور افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی ملاقات کر چکا تھا۔ یہ اسلحہ پنجگور سے تربت لے جایا جا رہا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ساجد کا تعلق بی وائے سی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو کالعدم تنظیم میں بھرتی کرنے میں سرگرم تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق ایران سے اسمگلنگ کے ذریعے اسلحہ پاکستان لایا گیا جبکہ پڑھے لکھے افراد بھی شدت پسندی کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس او اور بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو مسلح تنظیموں میں شامل کیا جاتا ہے۔

اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ خاران سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ سرفراز، جو بی وائے سی میں شامل تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ جہانزیب عرف مہربان بھی زیر حراست ہے، جو بساکھ سے منسلک رہا اور نوجوانوں کا برین واش کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور 18 سالہ نوجوان بزین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کم عمر نوجوانوں کو برین واش کر کے اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں، تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ نوجوان پیسے اور ادویات کی ترسیل کا کام بھی کرتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں کی سرجیکل ادویات بھی دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گرفتار نوجوانوں کی اصلاح کر کے انہیں دوبارہ کارآمد شہری بنایا جائے گا جبکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کرلیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد ساجد احمد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے۔

کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعرزاز گورایہ نے کہا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے اہم آپریشن کیا ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ساجد پنجگور سے تربت کی طرف بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا، گرفتار دہشتگرد سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد جہانزیب مہربان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو ریکی اور رقم فراہم کرنے میں شامل رہا ہے۔ جہانزیب نے ایک اور 18 سال کے لڑکے کو  بھی اپنے ساتھ شامل کیا تھا۔

ساجد احمد یونیورسٹی آف تربت میں پڑھاتا رہا ہے، ساجد کی بھابھی بھی بی وائی سی کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔ مزید کارروائیوں میں دہشت گرد بیزل اور خاران کے رہائشی سرفراز کو بھی گرفتار کیا ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ پورے صوبے میں پولیس کی عملداری موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ادارے کی شاخیں بنائی جارہی ہیں، گزشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔