کسی بھی معاشرے کی روشن مستقبل اور ملک و ریاست کے ترقی و خوشحالی کیلئے مملکت کی صحت اولین ترجیح ہوتی ہیں۔ حقیقی اور عوام دوست حکمران عوام کی صحت کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں جو اپنے ملک میں صحت کے لیے تمام اقدامات اٹھاتے ہیں، پولیو اور 2019 میں کرونا وائرس ہمیں آسان مثال ملتی ہیں جہاں چین جیسے ترقی یافتہ اور حقیقی عوام دوست حکمرانوں نے کرونا سے نمٹنے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کر دی ملکی معیشت سے بھی زیادہ عوام کو صحت کو ترجیح دی اور کرونا جیسے خطرناک مرض کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ دوسری جانب اگر بلوچستان میں صحت کے نظام پر نظر ڈالے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں صحت کے نظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صحت کے اہم شعبوں میں فزیوتھراپسٹ ایک اہم اور لازم شعبہ ہیں۔ مگر بلوچستان میں فزیوتھراپی کی موجودہ صورتحال محض ایک طبی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ صوبے کے مجموعی صحت کے نظام کی کمزوری کی واضح تصویر ہے۔
صحت ایک ایسا نعمت ہیں جس کا نعم البدل نہیں کئی انسان معمولی بیماریوں اور چھوٹے حادثات کے وجہ سے صحیح تشخیص نہ ہونے کے وجہ سے زندگی بھر معزوری اور محتاجی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہیں۔ جہاں انسانوں کو زندگی بھر کے معزوری اور محتاجی سے بچانے کیلئے بڑے سرجری سے بھی کام نہیں چل سکتا وہاں فزیوتھراپی سے ان بیماریوں کا آسان علاج ہوتا ہیں۔ فزیوتھراپی وہ بنیادی علاج ہے جو حادثات، فالج، ہڈیوں اور جوڑوں کی بیماریوں، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، آپریشن کے بعد بحالی اور معذور افراد کی زندگی کو دوبارہ حرکت دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جو سرجری اور میڈیسن میں بہتر نہ ہو لیکن پھر بھی وہ ممالک فزیوتھراپی کے شعبے میں انتہائی آگے نکل چکے ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان اس شعبے میں ترقی تو دور حکمران اس شعبے کو عوامی سطح پر کوئی اہمیت تک نہیں دیتے یہی وجہ ہیں کہ بلوچستان میں سالانہ سینکڑوں افراد معزوری اور محتاجی کی زندگی گزار رہے ہیں جو حکمرانوں کی عدم دلچسپی کے ساتھ عوام دوستی کے دعوؤں کو بھی خود ہی مسترد کرتا ہیں۔
بلوچستان کے حکمران بذات خود اپنے ذات کیلئے فزیوتھراپسٹ کو اہم سمجھتے ہیں یہاں کے حکمران فزیوتھراپی اپنے لیے اس حد تک ترجیح دیتے ہیں کہ اپنے لیے باہر کے صوبوں سے فزیوتھراپسٹ منگواتے ہیں یا خود صرف فزیوتھراپی کیلئے دیگر صوبوں اور کچھ صاحب حیثیت بیرون ممالک تک جاتے ہیں۔ مگر عوام کیلئے اس قیمتی اور آسان علاج تک رسائی نہیں پورے بلوچستان میں اس وقت سرکاری و نیم سرکاری کسی بھی قسم کا فزیوتھراپی سینٹر تک نہیں۔ مگر بلوچستان کے وطن دوست اور محب وطن فزیوتھراپسٹ نے غریب اور لاچار عوام درد کو محسوس کرتے ہوئے ہمیشہ حکمرانوں اور اعلٰی حکام سے اس شعبے کو فحال کرنے کیلئے اپنے خدمات سر انجام دینے کے ساتھ اپنی آواز کو بھی بلند کی اور ابھی تک آواز بلند کرکے جدوجھد کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے فزیوتھراپسٹ کے قربانیوں اور جدوجھد پر نظر ڈالے تو یہ کسی ایک دن، ایک احتجاج یا ایک حکومت کی نہیں۔ بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں اور 2015 سے مظبوط اور موثر آواز بلند کرکے جدوجھد کر رہے ہیں، اُس وقت جب ہم فزیوتھراپی کے طالب علم تھے۔ اسی ادوار سے اس شعبے کو حکومتی سطح پر نظر اندازی کو محسوس کر رہے ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں بھی تعلیمی اداروں میں حکومت کی جانب سے کسی بھی جدید مشینری و سہولیات مہیا نہیں کی گئی۔ فزیوتھراپسٹ بغیر پیڈ ہاؤس جاب کر رہے ہیں جو کہ تعلیم و صحت کے محکموں کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بلوچستان کے ہسپتالوں اور صحت سینٹر میں فزیوتھراپی کا شعبہ نہ ہونے کے برابر ہے، مریض بحالی سے محروم آنکھوں میں بے بسی اور مایوسی لیکر تڑپتے ہیں یہاں روزانہ کس طرح فزیوتھراپی نہ ملنے کی وجہ سے فالج کے مریض بستر تک محدود ہو جاتے ہیں، حادثات کا شکار نوجوان مستقل معذوری کا سامنا کرتے ہیں اور بزرگ شہری محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ معزور مریض ایک بوجھ بن جاتے ہیں جو خود اور ان کے لواحقین روزانہ ایک قرب سے گزرتے ہیں مگر درد اور اذیت کو کسی حکمران نے آج تک محسوس نہیں کی یہی وجہ ہیں کہ فزیوتھراپی کے کوئی بھی پالیسی نظر نہیں آتی ۔ مگر اس احساس کو فزیوتھراپسٹ کمیونٹی نے روز اول سے سمجھا اور محسوس کیا۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری و سہولیات نہ ہونے کے باوجود بھی مریضوں کو احساسات میں اتر کر دیکھا ان کے آنکھوں کو بے بسی و نا امیدی کو امید بخشنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ معزوری کی ہمت بن کر محتاجوں کی لاٹھی بن کر اپنے خدمات سر انجام دینے لگے اور اسی احساس نے فزیوتھراپسٹ کمیونٹی کو یکجا کرکے ایک مظبوط اور موثر آواز بلند کرنے پر مجبور کرکے پر امن سیاسی جدوجھد کیلئے میدان میں کھڑا کر دیا۔ یوں 2015 سے شروع ہونے والی یہ جدوجھد وقت کے ساتھ مزید منظم اور شدید ہوتی چلی گئی، حتیٰ کہ دو سال قبل بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ جس میں کئی معزور و مسکین مریضوں نے قوت دی۔ کوئی معزور جو خود کھڑا نہیں ہوسکتا تھا لیکن فزیوتھراپسٹ کمیونٹی کے ساتھ مظبوطی کے ساتھ کھڑا رہا۔ بلوچستان کے حکمرانوں میں ان معذوروں اور محتاجوں کے آواز پہنچانے کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک پُرامن احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا جو مسلسل نو ماہ تک جاری رہا۔ ہر روز احتجاج، ہر روز مطالبات، ہر روز یہ یاد دہانی کہ فزیوتھراپی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی علاج اور ضرورت ہیں۔ مگر حکمرانوں کے کانوں میں جو کا تو نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ فزیوتھراپسٹ کمیونٹی حادثات و فالج و دیگر امراض کے وجہ سے معزور ہونے والے افراد کے ساتھ بلوچستان اسمبلی کے سامنے گئے اور پر امن طریقے سے اس امید کے ساتھ آواز بلند کی کہ منتخب نمائندے بلوچستان کے ان بے بس و معزور افراد کیلئے فزیوتھراپی کا مستقل پالیسی بنا کر عوامی صحت کو مزید نظر انداز نہ کریں۔ بعد ازاں گورنر ہاؤس کے سامنے آواز بلند کرنے کیلئے پر امن احتجاج کیا گیا، جس پر فزیوتھراپسٹ کے مسئلے کو سمجھنے کے بجائے کئی فزیوتھراپسٹ ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ مگر پھر بھی بے بسوں اور محتاجوں کے آنکھوں کے امید نے فزیوتھراپسٹ کمیونٹی کو پیچھے ہٹنے نہیں دیا جس کے بعد فزیوتھراپسٹ ساتھیوں نے محسوس کیا کہ تمام پر امن راستے بند ہوئے تو فزیوتھراپسٹ کمیونٹی کے ساتھی مجبوراً تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ تادم مرگ بھوک ہڑتال کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ مگر ایک امید اور ایک درد نے اس سخت اور اذیت بھری آزمائش شعوری طور پر حصہ بنایا، بھوک ہڑتال کے دوران شدید جسمانی کمزوری، ذہنی دباؤ اور خطرات کے باوجود بھی مقصد واضح تھا کہ بلوچستان کے معزور و محتاج انسانوں کیلئے علاج اور نئی زندگی اور اپنے آئینی، قانونی اور عوامی صحت سے جڑے حقوق کا حصول۔
اس جدوجھد کے نتیجے میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان، جناب قدوس بزنجو، نے ہمارے مطالبات کے حق میں تحریری ڈائریکٹو جاری کیا، جس میں فزیوتھراپسٹ کی پوسٹوں کے قیام کا واضح ذکر موجود تھا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ حکمران اس اہم شعبے کو بلوچستان میں فعال کرکے ہزاروں لاکھوں افراد کو معزوری و محتاجی سے بچا لے اور فزیوتھراپسٹ کمیونٹی بھی معاشرے اپنے خدمات سر انجام دے سکے ، مگر بدقسمتی سے آج تک اس تحریری حکم پر مکمل اور عملی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
بعد ازاں یہ تاثر دیا گیا کہ مسائل حل ہو رہے ہیں، اور اس پر عمل درآمد ہو رہا ہیں کیونکہ چند ہی آسامیاں سامنے آئیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ آسامیاں مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ کنٹریکٹ سسٹم کے تحت تھیں۔ ان محدود کنٹریکٹ پوسٹوں نے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کیے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ان میں بھی سفارشی کلچر نے پورے عمل کو درہم برہم کر دیا۔ میرٹ کے بجائے تعلقات کو ترجیح دی گئی، جس سے اہل، تجربہ کار اور جدوجھد کرنے والے فزیوتھراپسٹ نظر انداز کر دہے گئے۔ کنٹریکٹ سسٹم پیشہ ورانہ استحکام فراہم نہیں کر پاتا اور نہ ہی فزیوتھراپسٹ کو صحیح و حقیقی معنوں میں روزگار فراہم کرتے، کم تنخواہیں، غیر یقینی مستقبل اور دباؤ کے ماحول میں نہ فزیوتھراپسٹ بہتر انداز میں مریضوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن ہو پاتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان مریضوں پر پڑ رہا تھا جنہوں نے اپنے آنکھوں میں ایک امید جگائی تھی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان کے ہسپتالوں میں صحیح اور حقیقی معنوں میں فزیوتھراپی کا شعبہ فعال نہیں، بڑے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں پورے ہسپتال کے لیے صرف ایک یا دو فزیوتھراپسٹ تعینات ہیں اس وقت تقریباً 1500 سے زائد فزیوتھراپسٹ خدمات سر انجام دینے کے بجائے بے روز گاری کے وجہ سے خود ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئےہیں۔ روزانہ سینکڑوں مریض حادثات، فالج، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کے مسائل کے ساتھ آتے ہیں، مگر اتنے محدود وسائل کے ساتھ معیاری بحالی ممکن ہی نہیں۔ فزیوتھراپی نہ ہونے کے باعث مریض زیادہ دن اسپتالوں میں داخل رہتے ہیں، علاج کا خرچ بڑھ جاتا ہے، اور معذوری میں اضافہ ہوتا ہے۔ غریب مریض نجی اداروں کا مہنگا علاج برداشت نہیں کر پاتے، جبکہ متوسط طبقہ قرض لے کر علاج کروانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں بیماری کے ساتھ غربت اور مایوسی بھی جنم لیتی ہے۔
اس کے برعکس فزیوتھراپی کے کو علاج کے بجائے چند افراد نے کاروبار سمجھا نجی ادارے فزیوتھراپی اور کورسز بغیر کسی واضح پالیس کے صرف اور صرف پیسوں کی خاطر کروا رہے ہیں، جبکہ فارغ التحصیل نوجوان تجربہ کار ڈگری ہاتھوں میں اٹھائے خدمات سر انجام دینے کے بجائے بےروزگاری سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن نے تمام پہلوؤں پر نظر دوڑائیں اور بلوچستان کے روشن مستقبل معزور افراد کیلئے امید اور ڈگری یافتہ فزیوتھراپسٹ کیلئے روزگار کے مواقع تاکہ ان کے خدمات سے فائدے اٹھانے کے ساتھ ان کے حقوق مل سکے یہی بنیادوں پر مکمل طور پر آئینی، قانونی اور عوامی مفاد پر مبنی مطالبات سامنے رکھے تھے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فزیوتھراپسٹ کی مستقل اور مناسب تعداد میں فزیوتھراپسٹ کی آسامی، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے کمپلیکسز کو فعال کرنا، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں فزیوتھراپسٹ کو شامل کرنا، ہاؤس آفیسرز کے لیے پیڈ ہاؤس جاب، اور نجی اداروں کے لیے واضح اور سخت ریگولیشن، اور حادثات و بیماری کے وجہ سے معزور ہونے والے افراد کیلئے سہولیات مہیا کی جائے۔
یہ تحریر محض ایک شکایت یا التجا نہیں نہیں بلکہ بلوچستان میں فزیوتھراپی کے نظر اندازی حقیقی بنیادوں پر معزور ہونے والے حکومتی پالیسی اور اس کے خلاف شروع ہونے والی ایک طویل جدوجہد کی داستان ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک فزیوتھراپی کا شعبہ نظر انداز ہوتا رہے گا؟؟ کب تک روزانہ بلوچستان کے ہزاروں افراد معزوری کا شکار بنتے رہے گے؟؟ کب تک بلوچستان ہے ہسپتالوں میں فزیوتھراپسٹ نہ ہونے کے برابر ہونگے؟؟ کب تک فزیوتھراپی کو بلوچستان میں وہ مقام دیا جائے گا جس کی یہ مستحق ہے؟؟ اور کب عوام کو مکمل، معیاری اور باعزت علاج میسر آئے گا؟
آخر کب تک…؟