کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے پُرامن احتجاجی ملازمین پر طاقت کا بے جا استعمال، تشدد اور گرفتاریاں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جو لوگ اپنے جائز حقوق کے لیے آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں، انہیں طاقت کے زور پر دبانا ریاستی طرزِ عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بھر کے گرینڈ الائنس کے ملازمین کے ساتھ کوئٹہ انتظامیہ کی جانب سے روا رکھا گیا غیر مناسب اور ناروا سلوک افسوسناک ہے۔ اختلافِ رائے، احتجاج اور مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جسے کچلنے کی کوششیں نہ صرف آئینی روح کے منافی ہیں بلکہ ادارہ جاتی وقار کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ملازمین کے مطالبات برسوں سے التواء کا شکار ہیں، جنہیں حل کرنے کے بجائے گرفتاریوں اور تشدد کا راستہ اختیار کرنا مسائل کو مزید گھمبیر بنا دے گا۔ بی ایس او پُرامن احتجاج کرنے والے تمام ملازمین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ بلوچستان آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائے، گرفتار شدہ ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور گرینڈ الائنس کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ بی ایس او واضح کرتی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سنجیدہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد پائیدار حل ہیں۔