وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ اور آوارہ جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک انقلابی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے کوئٹہ میونسپل انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ شہر میں کتوں اور بلیوں کو مارنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور غیر معیاری یا جعلی ویکسین کے بجائے بین الاقوامی معیار کے TNVR (Trap-Neuter-Vaccinate-Return) پروگرام پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ “آوارہ جانوروں کے مسئلے کا حل ان کا قتل عام نہیں، بلکہ جدید، سائنسی اور انسانی طریقہ کار اپنانے میں ہے”۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اب صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی ایک محفوظ صوبہ بننے کی راہ پر گامزن ہے اور اس ضمن میں جانوروں کے تحفظ کی پالیسی کو مستقل اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت غیر سرکاری تنظیم “پناہ کوئٹہ” کے تعاون سے شہر میں جانوروں کو محفوظ انداز میں سنبھالنے، ان کی نس بندی کرنے اور انہیں موذی امراض سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف جانوروں پر ہونے والے تشدد کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوامی صحت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات (جیسے کہ ریبیز) کو بھی سائنسی بنیادوں پر حل کیا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ جانوروں کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں جانوروں کے حقوق کی پامالی کو روکا جائے گا اور کوئٹہ کو ایک مہذب اور جانور دوست شہر کے طور پر متعارف کروایا جائے گا۔