|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2026

نیشنل پارٹی کوئٹہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پرنس روڈ پر واقع حلیم پلازہ میں گزشتہ دنوں ایک دلخراش آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں تاجروں کو کروڑوں کا نقصان ہوا اس میں ایسے تاجر اور دکاندار بھی شامل ہے جو بے آسرا اور بے یار ومددگار ہوئے انکی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی جل کر خاکستر ہوئے یہ امر تشویشناک ہے کہ چند منٹ کے فاصلے پر فائر برگیڈ ہونے کے باوجود عملہ وقت پر نا پہنچ سکا جس سے پلازہ کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس دلخراش واقعہ کے فورا بعد حکومتی سطح پر شفاف تحقیقات کی جاتی تاجروں کی داد رسی اور مالی ازالہ کیا جاتا مگر افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے ان تاجروں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

 

بلوچستان میں پہلے ہی غربت اپنے انتہا پر ہے بارڈر بند بیروزگاری اور پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے حکومتی رٹ نا ہونے کے برابر ہے ایسے حالات میں یہ بے آسرا تاجر جاہے تو جائے کہاں، کوئٹہ کے تاجروں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے ایک جانب تاجروں کے دکان اور گوداموں پر رات کے اندھیرے میں مختلف بہانوں سے چھاپے مار کر انہیں عدم تحفظ کا شکار بنا دیا گیا اور دوسری جانب حلیم پلازہ جیسے دلخراش واقعات میں بھی انکی داد رسی نہیں کی جاتی ہے اس کے برعکس دوسرے صوبوں میں اس قسم کے سانحہ کے بعد فوری طور حکومت نے اپنے تاجروں کا ازالہ کیا مگر بلوچستان پر مسلط فارم 47 کی جعلی حکومت نے حسب روایت تاجروں کے اربوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود ان متاثرین کو اب تک بے یار و مددگار خدا کے آسرے پر چھوڑا ہوا ہے جس کی نیشنل پارٹی کوئٹہ شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ سانحہ حلیم پلازہ کی شفاف تحقیقات کرکے متاثرین کے نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔