ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں بروز پیر 2 فروری 2026 سے سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 26 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پولیو وائرس صوبے 93 فیصد علاقوں کے ماحولیات میں ختم ہوا ہے تاہم 7 فیصد علاقوں کے ماحولیات میں وائرس موجود ہے جس سےننھے بچے کسی بھی وقت متاثر ہوسکتے ہیں اور وائرس دوبارہ۔پھیل بھی سکتا ہے یہ مہم انہی خطرات سے بچوں کو محفوظ بنانے اور ماحولیات سے پولیو وائرس کے خاتمہ کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ2025 میں بلوچستان سے پولیو وائرس کے خاتمے میں خاطر خواہ کامیابی ملی، گزشتہ 15 ماہ سے صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ صوبے کے ماحولیات سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے یہ سال انتہائی اہم ہے۔
سال رفتہ کی طرح 2026 میں بھی منظم اور موثر مہمات کے ذریعے ہر بچے تک پہنچیں گے انعام الحق نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی ویکسین پلائیں، بصورت دیگر یہ لاعلاج معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق مہم کے سلسلے میں تمام انتظامات مکمل ہیں ٹیموں کو شہری و دور دراز علاقوں میں متحرک کر دیا گیا ہے
مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں 822فکسڈ ٹیمیں اور 474 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مہم کی کامیابی عوامی تعاون پر منحصر ہے۔
کوآرڈینیٹر ای او سی بلوچستان نے سول سوسائٹی، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ شعور اجاگر کریں اور والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کے لیے آمادہ کریں۔
انعام الحق نے والدین کو حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت بھی یاد دلائی جو بچوں کو 12 مہلک بیماریوں مثلاً خسرہ، تپ دق، ہیپاٹائٹس بی اور ڈفتھیریا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ قریبی صحت مرکز جا کر بچوں کو وقت پر تمام ویکسین ضرور لگوائیں۔
انہوں نے کہا، “بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ایک بچہ بھی اگر پولیو کے قطروں سے محروم رہ جائے تو تمام بچے خطرے میں پڑ جاتے ہیں