|

وقتِ اشاعت :   February 16 – 2026

کوئٹہ:صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور احمد بلیدی نے بلوچستان میں جامع، پائیدار اور شواہد پر مبنی سماجی ترقی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نتائج پر مبنی مؤثر شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات اعلیٰ سطحی پالیسی مشاورتی اجلاس بعنوان ‘‘بلوچستان میں جامع اور مضبوط سماجی خدمات کی جانب پیش رفت’’ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان اس وقت اپنی سماجی ترقی کی سمت کو نئے انداز میں متعین کرنے کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی شواہد، اصلاحات اور مضبوط شراکت داریوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد صوبے میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے گزشتہ دہائی میں حاصل ہونے والی قابلِ پیمائش پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سرویز اور ترقیاتی مطالعات کے مطابق بچوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات تقریباً 66 فی ہزار جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 78 فی ہزار تک کم ہو چکی ہے، جو صحت کے نظام اور بچوں کی فلاح و بہبود میں ہدفی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔

 

صوبائی وزیر نے تعلیم کے شعبے میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں خواندگی کی شرح بتدریج بڑھ کر تقریباً 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم انہوں نے سیکھنے کے معیار اور ثانوی تعلیم تک منتقلی کے مسائل کو برقرار چیلنج قرار دیتے ہوئے تعلیمی اصلاحات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کثیر جہتی غربت میں بھی وقت کے ساتھ کمی آئی ہے، جو سماجی شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کا مثبت نتیجہ ہے، تاہم بلوچستان اب بھی قومی سطح پر محرومیوں کا سب سے زیادہ شکار صوبہ ہے، جس کے باعث خدمات کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور مربوط پالیسی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

 

میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ اگرچہ تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی سمیت بنیادی ڈھانچے میں نمایاں سرمایہ کاری کی گئی ہے، تاہم خواتین کی خواندگی، غذائیت اور خدمات کے معیار جیسے اہم شعبے اب بھی توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اگلا مرحلہ انسانی وسائل کی ترقی، معیاری خدمات اور مضبوط نظام کی تشکیل پر مرکوز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان منصوبہ جاتی طرزِ عمل سے نکل کر نظام پر مبنی اور نتائج پر مرکوز ماڈل کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں صحت، غذائیت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے نظام کا انضمام، ڈیجیٹل اور ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے ذریعے بہتر منصوبہ بندی اور احتساب، اور پائیدار ترقیاتی اہداف و ماحولیاتی مزاحمت کے اصولوں سے ہم آہنگ سرمایہ کاری شامل ہے۔آخر میں صوبائی وزیر نے بلوچستان میں مضبوط، جامع اور جوابدہ سماجی نظام کی تشکیل کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترقیاتی شراکت داروں کو دعوت دی کہ وہ طویل المدتی اور نتائج پر مبنی شراکت داریوں کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں حقیقی اور قابلِ پیمائش بہتری لانے کے لیے حکومت کے وڑن کا ساتھ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *