|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2026

کوئٹہ: پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں سات ماہ پر مشتمل بیسک کورس کی تکمیل پر پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ان کے لیے انتہائی خوشی کا دن ہے اور وہ تمام نئے تربیت مکمل کرنے والے اہلکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

آئی جی پولیس کے مطابق بیسک کورس میں 868 اہلکاروں نے تربیت مکمل کی جن میں 826 مرد اور 42 خواتین ریکروٹس شامل ہیں۔ پاس آؤٹ ہونے والے اہلکار اب باقاعدہ طور پر پولیس فورس میں شامل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ انہوں نے پاس آؤٹ جوانوں اور خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی نوکری عبادت سے کم نہیں، بشرطیکہ اسے دیانتداری، محنت اور پروفیشنلزم کے ساتھ انجام دیا جائے۔

محمد طاہر نے کہا کہ پولیس کی نوکری کے لیے دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کا بنیادی کام امن و امان کا قیام ہے اور اس مشن میں فورس کو اندرون و بیرون ملک دہشتگردوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 31 جنوری کے حملوں میں دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور شہید ہونے والے اہلکاروں پر افسوس کم اور فخر زیادہ ہے۔

آئی جی بلوچستان پولیس نے کہا کہ پولیس کو ہر قسم کے جرائم، دہشتگردی اور سازشوں سے لڑنا ہے۔ عوام کے ساتھ رویہ دوستانہ اور خدمت پر مبنی ہونا چاہیے جبکہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ سختی برتی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس کا رویہ مثبت، وردی باوقار اور ذہن صاف ہونا چاہیے، اور کرپشن، جھوٹ اور سمگلنگ سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا۔ ٹیم ورک کے ذریعے آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اے ٹی ایف میں ایک ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی اور کوئٹہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ سی ٹی ڈی کی تربیت میں مزید جدت لائی جائے گی جبکہ محکمہ پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا جائے گا۔ پہلی بار گریڈ 17 سے 18 میں ترقی پانے والے افسران کے لیے خصوصی کورس تیار کیا جا رہا ہے۔

محمد طاہر نے بتایا کہ خضدار لیویز ٹریننگ سینٹر کو پولیس ٹریننگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور لیویز کا پولیس میں انضمام جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس وقت پولیس ٹریننگ سینٹر میں لیویز کے 600 اہلکار بھی زیر تربیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تربیت کو بھرپور ترجیح دی جا رہی ہے اور نجی تنظیموں کی مدد سے ٹریننگ سینٹر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جبکہ درپیش مسائل کے حل کے لیے جلد عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔ انفراسٹرکچر سے متعلق امور پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ بھی دی جائے گی۔

آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے اور وفاق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی 1020 قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فورس نے امن و امان کے قیام کے لیے بے مثال خدمات انجام دی ہیں، اور آئندہ بھی دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *