|

وقتِ اشاعت :   February 19 – 2026

کوئٹہ :صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رمضان المبارک شروع ہوتے ہی دکانداروں نے گراں فروشی شروع کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے مقرر کردہ نرخوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اپنی مرضی سے گوشت اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرکے شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا عوامی حلقوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے اپیل کی ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں گراں فروشوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرکے پرائس کنٹرول کمیٹی کے جاری کردہ ریٹ لسٹ پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے۔

 

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ میں چھوٹے گوشت کی قیمت 2000 روپے فی کلو ، بیل کا گوشت بمعہ ہڈی 1050 جبکہ بغیر ہڈی کے 1200 روپے فی کلو ، روٹی 310 گرام 40 روپے، دودھ 200روپے فی لیٹر ، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت 550 روپے مقرر کی گئی لیکن رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی دکانداروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنی شروع کردی ہے مارکیٹ میں چھوٹا گوشت 2500 روپے اور بڑا گوشت ہڈی والا 1350 بغیرہڈی 1550روپے فی کلو فروخت کرنا شروع کردیا اسی طرح پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا ضلعی انتظامیہ اور علاقہ مجسٹریٹ کی جانب سے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی

جارہی جس کی وجہ سے دکانداروں نے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے اسی طرح کھجور کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے کھجور 600 سے لیکر 1000 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان ، چیف سیکرٹری ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے اپیل کی ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، گراں فروشی کا نوٹس لیتے ہوئے گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرکے عوام کو انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق اشیاء خوردونوش اور کھانے پینے کی چیزوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو گراں فروشی سے چھٹکارا مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *