|

وقتِ اشاعت :   February 24 – 2026

کوئٹہ:بلوچستان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے یہ اہم فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں سیف سٹی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت صوبے کے اہم شہروں میں جدید ترین کیمروں کی تنصیب، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو مرحلہ وار فعال کیا جائے گا۔

 

اس اقدام کا مقصد مرکزی شاہراہوں، حساس تنصیبات، سرکاری و نجی اہم عمارات اور عوامی مقامات کی چوبیس گھنٹے مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ منصوبے میں حائل تمام انتظامی، تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار مالی و تکنیکی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی تاکہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو سکے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعد بلوچستان جدید سیف سٹی سسٹم متعارف کرانے والا دوسرا صوبہ ہوگا جو امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی حالات میں فوری رسپانس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی رابطے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنائی جا سکے گی اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *