کوئٹہ: بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کی جانب سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کےنومنتخب کابینہ اور مجلس عاملہ کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتما م کیا گیا ۔ افطار ڈنر میں بی یو جے کے صدر منظور احمد رند ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین ، بی یو جے کے کابینہ و مجلس عاملہ کے اراکین ، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید ، جنرل سیکرٹری ایوب ترین ، سنئیر صحافیوں محمد کاظم مینگل ، رشید بلوچ ، ظفر بلوچ ، بلوچی اکیڈمی کے چئیرمین ہیبتان عمر ، وائس چئیرمین پروفیسر صدیق سمیت بلوچی اکیڈمی کے دیگر عہدیداران نے شرکت کی ۔
چیئر مین بلوچی اکیڈمی ہیبتان عمر نے بی یو جے کی نو منتخب کابینہ اور مجلس عاملہ کے ارکین کو مبارکباد دی اور انہیں بلوچی زبان وادب کے فروغ کیلئے بلوچی اکیڈمی کی خدمات سے متعلق بریفنگ دی۔ چیئرمین بلوچی اکیڈمی نے بتایا کہ بلوچی اکیڈمی بلوچی ادب کے فروغ کیلئے پھر پور کردارادا کررہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اپنےقیام سے لیکر آج تک بلوچی اکیڈمی نے بلوچی زبان کے شعراء اور مصنفین کی ہزاروں کتابیں چھاپ کر مختلف تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کو فراہم کی اور اپنے محدود وسائل میں آج بھی یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچی اکیڈمی کوئٹہ بلوچی زبان و ادب کی ترویج، تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کے لیے ایک فعال ادارہ ہے۔ یہ اکیڈمی سینکڑوں معیاری کتابوں کی اشاعت، بلوچی ادب کو ڈیجیٹلائز کرنے بلوچی زبان کو AI کے مطابق ڈھالنے جیسی اہم خدمات انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے آزادی صحافت ،اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کیلئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جدوجہد اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بی یو جے نے ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے انہوں نے کہا کہ بی یو جے نے ہمیشہ بلوچی اکیڈمی کے ساتھ تعاون جاری رکھا جبکہ بلوچی اکیڈمی کی مختلف ایونٹس اور پروگراموں کو اخبارات اور ٹی وی چینلز پر کوریج دینے کیلئے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ۔
اس موقع پر صدر بی یو جے منظور احمد رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ صحافیوں کو درپیش مشکلات کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے بلوچی ادب کی ترویج و ترقی کیلئے بلوچی اکیڈمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس ضمن میں بلوچی اکیڈمی کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہا اور بی یو جے کی جانب سے بلوچی اکیڈمی کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ منظور احمد رند نے کہا کہ آج میڈیا اور اس سے وابسطہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے اور ہمیں کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ اس مو قع پر صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچی اکیڈمی کی اپنی ایک تاریخ ہے اکیڈمی نے ہمیشہ معیاری ادب کو فروغ دیا اور بلوچستان میں ادیبوں ، شعراء اور مصنفیں کی آواز بنی ہے جس کیلئے ہم بلوچی اکیڈمی کو داد دیتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب اور بلوچی اکیڈمی کے دیرینہ تعلقات ہیں عرفان سعید نے پریس کلب کی جانب سے بلوچی اکیڈمی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔
Leave a Reply