|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2018

کوئٹہ:  ڈی جی نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے کہاہے کہ بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال ،پسنی فش ہاربر ،گوادر کیو ڈی اے اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے قومی خزانے کے ضائع کرنیوالوں کیخلاف تحقیقات جاری ہیں ۔

اس سلسلے میں بلوچستان بدعنوانی کے 25مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ،پسنی فش ہاربر میں 3سو ارب روپے بغیر کسی منصوبہ بندی کے لگائے گئے اسی طرح پٹ فیڈر کینال پر 5ارب روپے لگائے گئے جس کے نتائج سامنے نہیں آئے اور نہ ہی اسکے ثمرات عوام تک منتقل ہوئے ،عوام اور تاجر قومی دولت کا ضیاع کرنیوالوں کی نشان دہی کریں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں اس لئے کچھ کووں کو لٹکانا پڑے گا تاکہ قومی دولت کو بچایا جاسکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈر ز اینڈ سمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر عہدیداروں اورممبران سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ایڈوائزر وفاقی محتسب سرور بروہی ،چیمبر کے صد رحاجی جمعہ خان ،پیٹرانچیف پاک ایران مشترکہ چیمبر آف کامرس حاجی ولی محمد ،سینئر نائب صدر پاک ایران مشترکہ چیمبر حمد اللہ خان ترین ،چاغی چیمبر کے صدرحاجی اکبر مینگل،حاجی رفو گل بڑیچ ،حاجی نعمت اللہ نورزئی ،فرحان یوسفزئی ،سلام صراف ،نعیم رمضان ،چوہدری فرحت ،ملک سہیل خان بازئی ،ملک راشد ،ملک ندیم خان کاسی ،حاجی نادر خان ،عبداللہ اچکزئی ،قاری عبیداللہ ،مقبول الہی بھٹی ،عبداللہ ،حاجی شریف بنگلزئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

ڈی جی نیب محمد عابد جاوید نے کہاکہ انصاف پر قائم نہ ہونیوالے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں اس لئے بد عنوانی کو کم کرنا ممکن ہے ،انہوں نے کہاکہ میں 20سال قبل 1984سے حکومتی خدمات سے وابستہ رہاہوں ،بدعنوانی کے خاتمے کیلئے معاشرتی رویئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ،معاشی ترقی کیلئے امن کا قیام بے حد ضروری ہے بلوچستان کا ہمسایہ ممالک کیساتھ تجارتی حجم ماضی کی نسبت کم ہواہے ا س لئے دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی سرزمین معدنیات سے مالامال ہیں یہاں پر معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں اسی طرح صوبے کے لوگوں کو زیادہ تر انحصار تجارت اور زراعت سے وابستہ ہے صوبے میں سونے سے بھی قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں ۔

اس لئے اچھے کاموں اور نیت کو صاف رکھ کر کام کرنا ہوگا ،ایران کیساتھ برابری کی بنیاد پر تجارت ہونی چاہیے دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت سے بیروزگاری کو ختم کرنے میں مددملے گی اس لئے سب کو امن کے قیام کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایاکہ گوادر کے 10,12مقدمات نیب کے پاس آئے ہیں جن کی تحقیقات کیلئے میں وہاں پر جارہاہوں اسی طرح پسنی فش ہاربر پر 3سو ارب روپے بغیر منصوبہ بندی کے لگائے گئے انکی بھی تحقیقات کرنی ہے اسکے ساتھ ساتھ پٹ فیڈر کینال کے منصوبے کی تحقیقات کررہے ہیں ۔

5ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود اس کے نتائج سامنے نہیں آئے کہ جس کے ثمرات عوام تک منتقل ہوتے ،انہوں نے کہاکہ سرکاری محکمے اکثر منصوبوں سے متعلق متعلقہ حکام من وعن منظوری دے دیتے ہیں لیکن پھر ان پر چیک اینڈ بیلنس کے حوالے سے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے کوئٹہ میں نجی شعبے میں ہاؤسنگ اسکیم کے مسائل درپیش ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ زیارت میں 12سو پلاٹ جعلی الاٹ ہوئے تھے تحقیقات میں 6سو پلاٹ جعلی طریقے سے الاٹ کئے گئے تاجر بدعنوانی کی نشاندہی کریں ہم اس پر کارروائی کریں گے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ شواہد اور ملنے والے مواد کی روشنی میں سیاستدانوں او ربااثر شخصیات بیوروکریٹ کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

اس وقت بھی نیب بلوچستان کے 25مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں سیاستدانوں میں تحقیقات کے حوالے سے سابق وزیراعلی پنجاب کی مثال سب کے سامنے ہے نیب میرٹ پر کام کرتاہے کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس اور واپڈ ا کی شکایات کا جائزہ لیا جائیگا ۔

انہوں نے کہاکہ اگر نیب ہر محکمے میں بیٹھے گا تو کام نہیں ہوگا نیب کو سیاسی طورپر استعمال کرنے کا تاثر غلط ہے لیکن برسراقتدار حکومت دیکھتی ہے کہ کونسے مقدمات کھولنے ہیں اور نیب غلط کام کرنیوالوں کو کٹہرے میں لاکر ان سے ملک اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے ،ہم بلا امتیاز احتساب کررہے ہیں ۔

آشیانہ اسکینڈل جیسے بااثر سابق وزیراعلی بھی نیب کے شکنجے میں ہیں ،نیب تاجر برادری کے مسائل کا ادراک کرنے کیلئے ایک سیل قائم کرسکتا ہے جو 24گھنٹے کام کرے گا ،ہمارے ہاں افرادی قوت اور ماہرین کو مثبت انداز میں استعمال نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہمارے معدنی وسائل سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے ہم نے بڑے ٹینڈرز کی بولی کے موقع پر نیب کے نمائندوں کو بٹھائیں گے ۔

انہوں نے بتایاکہ کچھی کینال منصوبے جیسے بڑے کرپشن کے کیسز ہے اسی طرح لینڈ الاٹمنٹ کے 32کیسز میں سے 10گوادر کے ہیں ان کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں ،کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے کیلئے کچھ کووں کو لٹکانا پڑے گا تبھی مسئلہ حل ہوگا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ نیب حکومت کا ادارہ ہے جو وزیراعظم اور حکومت کیساتھ بھی رابطے میں رہتا ہے لیکن اس میں پالیسی نیب چیئرمین کی چلتی ہے ہنڈی اور منی لانڈرنگ سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے حوالے سے پوچھے گئے ۔

سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایف آئی اے کا بینکنگ سرکل کام کررہاہے ،اس میں دو ادارے کام نہیں کرتے کیونکہ اس سے پیسے کا ضیاع ہوتاہے عدالت او رایف آئی اے بھی کیس ہمیں ٹرانسفر کرسکتی ہے ،جس پر ہم کام کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ دیگر محکموں کی طرح ہمارے پاس بھی مختلف شعبوں میں ماہرین کی کمی ہے انکی خدمات کیلئے پرائیویٹ شعبوں سے ماہرین لیکر کام کرتے ہیں ،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ (ن) اور موجودہ حکومت کے وزراء اور دیگر عہدیداروں کے کیسز بھی نیب میں چل رہے ہیں اس لئے ہم بلاامتیاز احتساب کررہے ہیں ۔

اس سے قبل کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کی جانب سے مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی جس پر ڈی جی نیب نے تاجروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اسپیشل کاؤنٹر بنا کر مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

اس موقع پر وفاقی محتسب کے ایڈوائز ر سرور بروہی نے کہاکہ بدعنوانی کیخلاف شواہد منظر عام پر لائی جائے اور بدعنوانی کی نشان دہی کرنیوالوں کے نام صیغہ راز میں رکھ کر انہیں تحفظ دیا جائے ،وفاقی محکموں سے متعلق شکایات کا فیصلہ ایک ماہ میں کردیا جاتاہے ،گیس بجلی سمیت دیگر شکایات کے حوالے سے کام کررہے ہیں ۔

اس موقع پر سینئر ممبر ملک سہیل خان بازئی کے چچا مرحوم ملک حبیب اللہ خان بازئی کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اورکوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر حاجی جمعہ خان نے ڈی جی نیب محمد عابد جاوید کو اور پیٹرانچیف حاجی ولی محمد اور ملک ندیم کاسی نے سرور بروہی کو اعزاز ی شیلڈ دیں۔